تین بچوں کے قاتل، مجرم کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل: سپریم کورٹ

جسٹس ارون مشرا، جسٹس وِنیت سرن اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے مجرم منوج کی پھانسی کی سزا کو عمرقید میں تبدیل کر دیا، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ مجرم منوج 25 سال سے قبل جیل سے باہر نہیں آسکتا۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو چھتیس گڑھ کے بھلائی میں 2011 میں تین بچوں کے قتل کے مجرم منوج سوریہ ونشی کی پھانسی کی سزا کو عمرقید میں تبدیل کر دیا۔ جسٹس ارون مشرا، جسٹس وِنیت سرن اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے مجرم منوج کی پھانسی کی سزا کو 25 سال تک قید بہ مشقت کی سزا میں تبدیل کر دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ مجرم منوج 25 سال سے قبل جیل سے باہر نہیں آ سکتا۔ غور طلب ہے کہ منوج رتن پور کے کرہیئیا کے باشندے شیولال دھیور اور اس کی دو بیویوں منیشا اور کلپنا دھیور کے بچوں کماری ساکشی (07)، اجے (09) اور وجے (05) کا قاتل ہے۔ تینوں بچوں کی لاشیں 11 فروری، 2011 کو کھیت سے برآمد ہوئی تھیں۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق ساکشی، اجے اور وجے 11 فرروی، 2011 کو درِّی پارہ واقع سوامی وویکانند اسکول میں پڑھنے گئے تھے۔ بچے دیر شام تک جب گھر نہیں لوٹے تو ان کے والد شیولال نے اسکول جاکر پرنسپل اور اساتذہ سے پوچھ گچھ کی۔ جواب میں اساتذہ نے تینوں کے اسکول سے پیدل گھر جانے کی بات کہی۔ آس پاس کے افراد نے تینوں بچوں کو ان کے گھر کے پاس رہنے والے منوج کے ساتھ کھیت کی جانب جاتے ہوئے دیکھنے کی اطلاع دی۔

عوام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق پولیس نے رات میں ہی کھیتوں میں بچوں کی تلاش شروع کی۔ پولیس کو دیر رات ایک کھیت میں تینوں بچوں کی لاش مل گئی۔ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو پاتا اس سے پہلے ہی پولیس نے اسے پکڑنے کے لیے گھیر لیا۔

موبائل لوکیشن سے اس کے بیلترہ علاقے میں ہونے کا پتہ چل گیا تھا۔ بعد ازاں ملزم کو حراست میں لیا گیا۔ پوچھ گچھ میں ملزم نے بتایا کہ اس نے کماری ساکشی کا گلا کاٹ کر قتل کیا تھا۔ اجے اور وجے کو پتھر پر پہلے پٹخا اور بعد میں سر پر حملہ کر کے ان کا قتل کر دیا تھا۔ نچلی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تبصرہ کیا تھا کہ جب منوج سوریہ ونشی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، تب اس کے چہرے پر کوئی پشیمانی یا خوف نظر نہیں آر ہا تھا۔

next