پلوامہ حملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کا نتیجہ! سی آر پی ایف کی رپورٹ سے انکشاف

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ CRPF کی یہ رپورٹ وزارت داخلہ کے بیان کے ٹھیک برعکس ہے، پلوامہ حملے کے بعد وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پلوامہ حملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی نہیں تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کے پلوامہ میں 14 فروری 2019 کو سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو لے کر بڑا انکشاف ہوا ہے، سی آر پی ایف کی اندرونی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی تھی، غور طلب ہے کہ اس حملے میں سی آر پی ایف کے 40 سے زیادہ جوان شہید ہو گئے تھے۔

سی آر پی ایف کی اندرونی رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی حملے کو لے کر عام انتباہ جاری کیا گیا تھا، لیکن گاڑی سے فدائین حملے کو لے کر کوئی خاص خطرہ نہیں بتایا گیا تھا، رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ وادی میں کسی بھی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے اس طرح کے ان پٹ کا اشتراک نہیں کیا گیا تھا۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سی آر پی ایف کی یہ رپورٹ وزارت داخلہ کے بیان کے ٹھیک برعکس ہے، پلوامہ حملے کے بعد مودی حکومت پر سوال کھڑے کیے گئے تھے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کی بات سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی نہیں تھی۔

غور طلب ہے کہ اسی سال 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تھا، جموں کے ٹرانزٹ کیمپ سے سی آر پی ایف کی 78 بسوں کا قافلہ سری نگر جا رہا تھا۔ ان بسوں میں ڈھائی ہزار سے زیادہ جوان سوار تھے، سی آر پی ایف کا یہ قافلہ پلوامہ سرینگر-جموں شاہراہ سے گزر رہا تھا، اسی دوران خودکش حملہ وار نے دھماکہ خیز مواد سے لدی اپنی ایس یو وی کار سے براہ راست سی آر پی ایف کی بس میں ٹکر مار دی تھی۔ حملے میں 40 سے زیادہ جوان شہید ہو گئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے لی تھی۔

Published: 4 Sep 2019, 1:10 PM