کشمیر سے نکلنے والے متعدد مقبول ترین اردو زبان کے رسالوں کی اشاعت بند

موصوف صحافی نے کہا کہ وادی میں اردو کے قارئین کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باوجود روزگار کے وسائل نہیں ہیں جو ایک وجہ ہے کہ اس زبان میں میگزین شائع کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جہاں اردو روزناموں کی سرکیولیشن میں دوگنا اضافہ درج ہوا وہیں اسی عرصے کے دوران سری نگر سے نکلنے والے متعدد مقبول ترین اردو زبان کے رسالوں کی اشاعت بند ہو گئی۔ وادی کشمیر میں اردو زبان میں اس وقت کوئی ادبی یا نیوز میگزین باقاعدگی کے ساتھ شائع نہیں ہو رہی ہے جس کے باعث اس کے وسیع ترین حلقہ قارئین ورطہ حیرت میں بھی ہے اور ناراض و نالاں بھی ہے۔

قارئین اردو کا کہنا ہے کہ وادی میں نام نہاد محبین اردو کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن زمینی سطح پر اردو کے فروغ اور ارتقا کے لئے کوئی کام کرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں کوئی حقیقی معنوں میں اردو کا غمخوار وغمگسار ہوتا تو یہاں کم سے کم اردو اکیڈمی قائم ہوتی۔ اردو صحافیوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں اردو روزناموں کی سرکیولیشن میں روز افزوں اضافے کے باوصف اردو زبان میں میگزین کا نایاب ہونا فہم و ادراک سے پرے ہے۔

وادی کے چند نامور اور سینئر صحافیوں نے کچھ برس قبل ایک میگزین کی اشاعت کا بیڑا اٹھاکر ایک شاندار اور معیاری اردو میگزین منصہ شہود پر لایا تھا جو ہر لحاظ ونقطہ نگاہ سے اپنی مثال آپ تھا جس کے مضامین و مراسلات اس قدر معیاری اور بر وقت ہوتے تھے کہ چند ماہ کے اندر ہی اس میگزین کی شہرت سرحدوں کو پھلانگ کر جنوبی ایشیا کے اردو حلقوں میں پھیل گئی تھی لیکن دو تین برسوں تک صحافتی افق پر چھا جانے کے بعد یہ بھی نامعلوم وجوہات کی گہری دھند میں اوجھل ہوا جس کا اب کہیں نام ونشان بھی نظر نہیں آرہا ہے۔

شاید اسی میگزین کی شہرت سے تحریک حاصل کرکے وادی کے دو بڑے میڈیا اداروں نے بھی ہفتہ وار اردو نیوز رسالوں کی اشاعت شروع کی۔ دونوں رسالے مواد و معیار کے اعتبار سے ایک سے بڑھ ایک تھے، دونوں میگزینوں میں سینئر صحافیوں اور کہنہ مشق تجزیہ نگاروں کی مختلف موضوعات پر پُرمغز تحریریں ہوتی تھیں۔ یہ دونوں ہفتہ وار نیوز میگزین بھی کچھ برس بیت جانے کے بعد بالکل اسی طرح منظر عام سے یکے بعد دیگرے غائب ہوگئیں جس طرح افق صحافت یکے بعد دیگرے بہت ہی آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوئے تھے۔

ایک ہفتہ وار اردو میگزین اپنے مالک اور ایڈیٹر کی نامعلوم بندوق بردروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بند ہوگئی اور دوسری میگزین سال گزشتہ کے پانچ اگست کے بعد منظر نامے سے یہاں کے سیاسی لیڈروں کی طرح لوگوں کے لوح ذہن سے بھی مٹ گئی تاہم ایف ایم ریڈیو پر اس میگزین کے اشتہار کی صدائے بازگشت ابھی بھی اطراف واکناف میں سنائی دیتی ہے لیکن میگزین کا کیا ہوا تو مشہور شعر کا یہ بند نوک زبان پر خود بخود آجاتا ہے، زمیں کھا گئی آسمان کیسے کیسے۔

ایک صحافی نے اس مرحوم میگزین کے بارے میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ’میرا ایک دوست حیدر آباد میں ایک معروف نیوز چینل میں کام کرتا ہے، وہ چند روز قبل میرے پاس آیا ہوا تھا تو دوران گفتگو اس نے اس ہفتہ وار میگزین کی بات چھیڑی، جس کا اشتہار ایف ایم ریڈیو پر ہنوز چل رہا ہے، وہ بھی اشتہار سے ہی متاثر ہوکر اس میگزین کے دیدار کا مشتاق تھا لیکن جب میں نے کہا کہ اس میگزین کا اشتہار زندہ ہے لیکن میگزین موجود نہیں ہے تو انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معیاری میگزین کسی بھی صورت میں بند نہیں ہونے دیا جانا چاہیے‘۔

ایک اور صحافی نے کہا کہ وادی میں اردو رسالوں کے بند ہونے کی سب سے بڑی وجہ معاشی بحران ہے۔ انہوں نے کہا ’وادی میں اردو زبان میں رسالے نہیں ہیں یا بند ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کو درپیش معاشی بحران ہے، یہاں نجی ادارے ہوں کمپنیاں ہوں یا سرکاری ادارے ہوں اشتہارات، جو ایک روز نامے یا میگزین کی ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتے ہیں، ترجیحی بنیادوں پر انگریزی زبان میں شائع ہونے والے رسالوں کو دیئے جاتے ہیں‘۔

موصوف صحافی نے کہا کہ وادی میں اردو کے قارئین کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باوجود روزگار کے وسائل نہیں ہیں جو ایک وجہ ہے کہ اس زبان میں میگزین شائع کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔ ایک محب اردو نے اس بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاط میں کیا ’جہاں اردو اکیڈمی قائم نہ ہو وہاں اردو میگزین کے زندہ نہ رہنے پر حیران نہیں ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’یہاں اردو کے فروغ اور بقا کے لئے کئی انجمنیں اور تنظیمیں سرگرم ہیں جو وقتاً فوقتاً اردو زبان کے فروغ کے موضوع پر سمیناروں اور مباحثوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں جن میں مقررین فصیح و بلیغ تقرریں بھی کرتے ہیں اور اردو کے تحفظ کے لئے قرار دادیں بھی منظور کی جاتی ہیں لیکن بعد میں یہ سب نشستن، خوردن اور برخاستن والا معاملہ بن جاتا ہے‘۔

موصوف نے کہا کہ اردو کے نام ضیافتوں سے محظوظ ہوا جاتا ہے لیکن اردو کے لئے مخلصانہ طور پر کام کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ اردو کے ایک اسکالر نے کہا کہ وادی کشمیر میں اردو زبان کا رزق کھانے والے اردو کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں آج تک کسی نے خواہ وہ جموں و کشمیر کا کوئی وزیر تھا یا کوئی اور اعلیٰ عہدیدار یا کوئی اردو زبان کا بڑے سے بڑا استاد کسی نے یہاں اردو اکیڈمی کے قیام کے لئے کوئی قابل قدر کوشش نہیں کی جبکہ بہار، تلنگانہ، اترپردیش، کرناٹک جیسی ریاستوں میں اردو زبان کے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں جن کی حکومت بھی مدد کرتی ہے اور لوگ بھی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اردو کے پڑھنے والوں کی کثیر تعداد ضرور ہے لیکن اردو کی مالی معاونت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔