خامنہ ای قتل کے خلاف کشمیر میں مظاہرے، چھٹے دن بھی معمولات زندگی متاثر، پابندیاں مزید سخت
ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے قتل کے خلاف کشمیر میں احتجاج چھٹے دن بھی جاری ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں اور سیکورٹی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں

سرینگر: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف کشمیر وادی میں جاری احتجاج کے پیش نظر جمعہ کی نماز کے بعد مظاہروں کے خدشے کو دیکھتے ہوئے حکام نے عوام کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں خامنہ ای کی شہادت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے باعث وادی میں چھٹے دن بھی معمولات زندگی شدید متاثر رہے۔
حکام کے مطابق پیر کے روز وادی کے مختلف علاقوں میں اچانک احتجاج شروع ہونے کے بعد سے پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ جمعہ کے روز ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے سرینگر سمیت حساس علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی اہم مقامات پر تعینات ہیں تاکہ کسی بھی بڑے اجتماع کو روکا جا سکے۔
ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز شہری سماج کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم نشست کی تھی جس میں وادی میں معمولات زندگی بحال کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ امن برقرار رکھیں اور کسی بھی طرح کے تشدد یا ہنگامہ آرائی سے گریز کریں۔
حکام نے بتایا کہ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے اہم چوراہوں اور داخلی راستوں پر خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں تاکہ بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر قرار دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے تعلیمی اداروں کو ہفتہ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بھی کم کر دی گئی ہے تاکہ افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
شہر کے وسط میں واقع تاریخی لال چوک کا گھنٹہ گھر اس وقت مکمل طور پر ممنوعہ علاقہ بنا ہوا ہے۔ اتوار کی رات حکام نے اس کے اطراف رکاوٹیں لگا کر پورے علاقے کو سیل کر دیا تھا۔ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اسی مقام پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ اگست 2019 میں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر میں اس نوعیت کے وسیع پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔