شاہین باغ مظاہرہ: پیسہ لے کر احتجاج کرنے کے الزام پر خواتین برہم، امت مالویہ کو بھیجا نوٹس

شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف گزشتہ 36 دن سے دہلی کے شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین نے بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کو ہتک عزتی کا نوٹس بھیجا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مخالفت کی آواز بلند کرنے کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہو چکے دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف دھرنے پر بیٹھی خواتین نے بی جے پی آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کو ہتک عزتی کا نوٹس بھیجا ہے۔ اس قانونی نوٹس میں مالویہ سے فوری معافی مانگنے اور بطور ہرجانہ ایک کروڑ روپے دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شاہین باغ مظاہرین کے قانونی مشیر اور سینئر وکیل محمود پراچہ کے ذریعہ امت مالویہ کو یہ نوٹس مظاہرہ کرنے والی نفیسہ بانو اور شہزاد فاطمہ نام کی دو خواتین کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’آپ نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کے خلاف جھوٹے الزام لگا کر اور ان کو مشتہر کر کے اپنے آئینی حقوق کے تحت لوگوں کا دھیان کھینچ رہے مظاہرین کی بے عزتی کی ہے۔‘‘

نوٹس میں آگے کہا گیا ہے کہ آپ کے ذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرہ کرنے والی خواتین اس کے لیے روزانہ 500 سے 700 روپے لے رہی ہیں، یہ صرف جھوٹ ہی نہیں بلکہ اس سے مظاہرین کو قومی اور بین الاقوامی طبقہ کے درمیان بدنام کیا گیا ہے۔ مظاہرہ کرنے والی خواتین اس بات سے ناراض ہیں کہ ان پر پیسے لے کر مظاہرہ میں شامل ہونے کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف راجدھانی دہلی کے اوکھلا علاقہ واقع شاہین باغ میں گزشتہ 37 دن سے بڑی تعداد میں خواتین کی قیادت میں بڑا مظاہرہ جاری ہے۔ لیکن کچھ دن پہلے بی جے پی آئی ٹی سیل کے چیف امت مالویہ نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کر دعویٰ کیا تھا کہ اس احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے خواتین کو 500 سے 700 روپے روزانہ دیے جا رہے ہیں۔