مظاہرین کسانوں نے پنجاب میں کیا ہوٹل کا محاصرہ، بی جے پی لیڈران خفیہ دروازے سے ’فرار‘!

بھارتیہ کسان یونین (دوآبا) کے مظاہرین نے اس ہوٹل میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں بی جے پی لیڈر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کی جینتی منا رہے تھے

کسان تحریک / تصویر آئی اے این ایس
کسان تحریک / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: پنجاب کے پھگواڑا میں جمعہ کے روز بی جے پی لیڈران کے ایک گروپ کو ہوٹل کے پیچھے کے خفیہ دروازے سے فرار ہونا پڑا کیونکہ زرعی قوانین کی مخالفت کرنے الے کسانوں نے اس ہوٹل کا محاصرہ کر لیا، جہاں بی جے پی لیڈران ایک تقریب میں موجود تھے۔ بھارتیہ کسان یونین (دوآبا) کے مظاہرین نے اس ہوٹل میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں بی جے پی لیڈر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کی جینتی منا رہے تھے۔

مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ہوٹل ایک بی کے پی لیڈر کا ہے، جس نے ایک کمپنی بھی چلائی تھی جو گوشت اور مرغی دانے کی سپلائی کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنی کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔

یونین کے نائب صدر کرپال سنگھ موساپور کی قیادت میں کارکنان نے ہوٹل کے باہر مظاہرہ کیا اور بی جے پی لیڈران اور کارکنان کا محاصرہ کیا، جو کسانوں کا مظاہرہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہوٹل کے اندر جا چکے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ کسانوں نے بی جے پی کی خاتون ونگ کی ضلع صدر بھارتی شرما سمیت کئی بی جے پی کارکنان کو ہوٹل کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کے اندر جانے والے لیڈران اور کارکنان کو پولیس کی حفاظت میں یکے بعد دیگرے خفیہ دروازے سے باہر نکلنا پڑا۔

تین نئے زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ مہینے قومی راجدھانی دہلی کی سرحدوں پر ہزاروں کسان ڈیرا ڈال کر بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے منڈیاں زوال پزیر ہوں گی اور حکومت ایم ایس پی پر گینہو، چاول اور دیگر فصلوں کو خریدنا بند کر دیگی۔ انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ حکومت انہیں بڑے سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔

کسان یونینوں نے قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے اپنے اس مطالبہ کو پورا نہ ہونے پر بڑی تحریک چلانے کا انتباہ دیا ہے۔ وزرا اور کسان لیڈران کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے لیکن مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔