یو پی میں مظاہرین پر تشدد کرنے والے ’پُر اسرار‘ لوگ، ’پولیس مِتر‘ یا بھگوا غنڈے!

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اتر پردیش میں پولیس فورس کی کمی کے پیش نظر پولیس نے ’پولیس متروں‘ کا تعاون حاصل کیا، مظاہرین کا الزام ہے ان لوگوں نے سب سے زیادہ بربریت کی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

آس محمد کیف

لکھنؤ / کانپور / مظفر نگر / بجنور: اتر پردیش میں 20 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر پھیلی بدامنی کے بعد یوپی پولیس کو متعدد سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ پولیس پر جس پر سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ پولیس نے مظاہرے کو کچلنے کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال کیا اور کچھ غنڈوں کا تعاون حاصل کیا۔ الزام ہے کہ کچھ ’پُر اسرار نوجوانوں‘ نے شہری لباس میں پولیس کا ساتھ دیا۔ یہ پراسرار لوگ پولیس کی جانب سے مار پیٹ، توڑ پھوڑ، لاٹھی چارج یہاں تک کہ فائرنگ بھی کرتے نظر آئے۔

کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے غنڈہ گردی کرنے والے گروہ کے لوگوں کو سازش کے تحت میدان میں لائے گئے ’پولیس مِتر‘ (پولیس دوست) قرار دیا ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں بھگوا غنڈہ قرار دیا ہے! وہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ان کے معاون ہیں۔ قومی آواز نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ لوگ آخر کون تھے؟

آئیے پہلے کچھ اہم واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

لکھنؤ: پریورتن چوک- 19 دسمبر

لکھنؤ کے پریوورتن چوک پر سی اے اے کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران سماجی کارکن صدف جعفر موجود تھیں۔ انہوں نے احتجاج کے دوران نامعلوم افراد کو ہنگامہ کرتے دیکھ حیرت کا اظہار کیا۔ یہ لوگ پتھراؤ کرنے لگے اور پیشہ ورانہ انداز میں تشدد پھیلانا شروع کر دیا۔ صدر جعفر نے اپنی لائیو ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ یہ لوگ مظاہرین نہیں ہیں اور پولیس نے انہیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ پُر اسرار لوگ سازش کے تحت وہاں بھیجے تھے۔ پولیس نے الٹے صدر کو ہی موقع سے گرفتار کر لیا اور جیل بھیج دیا گیا، فیل الحال وہ ضمانت پر رہا ہو چکی ہیں۔

یو پی میں مظاہرین پر تشدد کرنے والے ’پُر اسرار‘ لوگ، ’پولیس مِتر‘ یا بھگوا غنڈے!

نہٹور (بجنور): مین مارکیٹ - 20 دسمبر

نہٹور میں نماز جمع کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مارچ نکالنا شروع کر دیا، اس وقت تک یہاں تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ مین بازار میں سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ایک لیڈر پرمود تیاگی کو دیکھ کر بھیڑ انسپکٹر راجیش سولنکی پر سوال اٹھانے لگی! عینی شاہدین کے مطابق، پرمود تیاگی پولیس کو ہدایت دے رہے تھے۔ اس کے بعد موقع پر پتھراؤ ہوا اور حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ پولیس نے یہاں اعتراف کیا کہ اس نے فائرنگ کی۔ نتیجاً دو نوجوانوں سلیمان اور انس ہلاک ہو گئے۔ پولیس سے سوال کیا گیا تو اس نے بتایا کہ پرومود تیاگی یہاں ’پولیس متر‘ کی حیثیت سے موجود تھے اور امن قائم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔

بجنور شہر: سول لائن- 20 دسمبر

بجنور کی جامع مسجد پر سیاہ پرچم لہراکر احتجاج درج کیا گیا اور بیشتر مقامات پر جمعہ کے روز مظاہرے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ یہاں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار کی تعیناتی کی گئی تھی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اچانک دوپہر بعد افواہوں کا بازار گرم ہو گیا کہ کچہری کے نزیدک واقع مسجد پر پتھراؤ ہوا ہے۔ یہ سنتے ہی کچھ نوجوان مسجد کی طرف لپکے، یہاں پہلے ہی سے موجود پولیس اہلکار اور پراسرار پولیس متر ان پر ٹوٹ پڑے۔ بجنور کی چیئرمین کے شوہر اور سماج وادی پارٹی کے رہنما شمشاد انصاری نے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تو انہیں بھی بری طرح سے مارا پیٹا گیا۔ زخمی حالت میں انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ شمشاد انصاری کے مطابق یہ تمام لوگ ہندووادی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ پولیس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

یو پی میں مظاہرین پر تشدد کرنے والے ’پُر اسرار‘ لوگ، ’پولیس مِتر‘ یا بھگوا غنڈے!

مظفر نگر: مہاویر چوک- 20 دسمبر

مظفرنگر میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد کا ہجوم سڑکوں پر اترا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگا۔ الزام ہے کہ جب یہ ہجوم مہاویر چوک پہنچا رتو مرکزی وزیر نے ان کا پیچھا انہیں کھدیڑنے کو کہا! اس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس دوران بھی پراسرار لوگوں کا ایک گروہ پولیس کے ساتھ تھا۔

مظفر نگر کے کانگریس رہنما سلمان سعید کے مطابق، پراسرار گروہ ہندووادی تھا اور اس گروہ نے ہی پولیس کے ساتھ مل کر مظاہرین پر بربریت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر سماجی عناصر نے ان کی ورکشاپ کو نذر آتش کر دیا اور ان کی کار کو بھی جلا دیا، اتنا ہی ان کے گھوڑے کو بھی زندہ جلانے کی کوشش کی۔

یو پی میں مظاہرین پر تشدد کرنے والے ’پُر اسرار‘ لوگ، ’پولیس مِتر‘ یا بھگوا غنڈے!

المیہ یہ ہے کہ پولیس نے غنڈہ گردی کرنے والے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی مقدمہ درج کیا۔ مظفرنگر کے بی جے پی لیڈر شری موہن تايل کے مطابق یہ ان کے لوگ تھے جو ’پولیس متر‘ کے طور پر تعاون دے رہے تھے۔ اتر پردیش کے تمام اضلاع کی پولیس کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ لوگ فسادی نہیں تھے بلکہ ’پولیس متر‘ تھے۔

’پولیس متر‘ آخر ہیں کون؟

دراصل، اتر پردیش کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے کے لئے ’پولیس متر‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ گزشتہ سال جون میں یوپی کے آئی جی ’لا اینڈ آرڈر‘ پروین کمار نے کہا تھا کہ کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے اور پولیس فورس کو ’اچھے‘ لوگوں کا تعاون دلانے کے لئے یہ اسکیم لائی گئی ہے۔ یہ ایک طرح کی رضاکارانہ خدمت ہے اور اس کسی کو کوئی محتانہ ادا نہیں کیا جاتا۔ تاہم ان تمام لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کئے گئے ہیں۔

یوپی پولیس کی طرف سے لاکھوں کی تعداد میں ’پولیس متر‘ بنانے کا ہدف رکھا گیا۔ اس سلسلے میں ضلعی پولیس کے کپتانوں کو خط بھیجے گئے اور ہر ایک سپائی کو 10 ’پولیس متر‘ بنانے کا ہدف دیا گیا۔ صرف آگرہ میں ہی 72 گھنٹوں میں 15000 ’پولیس متر‘ بنائے گئے۔ پروین کمار کے مطابق ان پولیس متروں کی مدد مختلف تہواروں پر پولیس بند و بست کرنے اور پولیس کو آراء دینے میں موثر ثابت ہوئی۔

بدلا نظام اور ہندووادی ’پولیس متر‘!

نظم و نسق کی بہتری کے لئے پولیس کے عام شہریوں سے تعاون حاصل کرنے کی یہ اسکیم پہلے ہی سے چلن میں تھی اور تب اسے ان پولیس متروں کو ’ایس پی او‘ کہا جاتا تھا۔ نظام تبدیل ہوا تو اسی اسکیم کا نام بدل کر ’پولیس متر‘ کر دیا گیا۔

سابق وزیر دیپک کمار کے مطابق، نئی حکومت میں حکمران جماعت کے حامیوں کی پولیس سے قربت کافی بڑھ گئی ہے اور اس کے کارکنان لگاتار پولیس اسٹیشن کے چکر لگاتے ہیں۔ لب و لباب ’پولیس متر‘ صرف اور صرف حکمران جماعت کے کارکنان اور حامیوں کو بنایا گیا۔ حالانکہ کچھ مسلم نوجوان بھی پولیس متر بنے اور انہوں نے کانوڑ یاترا کے دوران پولیس کا اپنا تعاون بھی دیا تھا۔

’پولیس متر‘ اسکیم کے مضر اثرات!

دیپک کمار کا کہنا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی ایک بڑی تعداد سے تعلق رکھنے والے نوجوان اب ’پولیس متر‘ بن چکے ہیں اور اب ان کے طرز زندگی اور رویہ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ان کی گاڑیوں پر ’پولیس‘ لکھا ہوتا ہے، کچھ خود کو ’کرائم برانچ‘ سے بتاتے ہیں اور منمانی کرتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک سیاسی نظریہ سے وابستہ ہیں ہیں، لہذا وہ رعب غالب کرنے کی کیفیت سے باہر نہیں نکل پاتے۔ پولیس کو چاہئے تھا کہ وہ سمجھدار اور پختہ ذہنیت والے افراد کا ہی انتخاب کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پولیس متر کیا کہتے ہیں؟

میرٹھ کے قصبہ موانہ کا 34 سالہ گورو ’پولیس متر‘ ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ممبر بھی ہے۔ گورو کہتے ہیں، ’’میں ہمیشہ سے پولیس میں بھرتی ہونا چاہتا تھا اور چاہتا تھا کہ قوم کی خدمت کروں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چند ماہ قبل میں ’پولیس متر‘ بن گیا۔ میں اب اپنے اردگرد ہونے والی بدانتظامیوں پر نظر رکھتا ہوں اور پولیس کو بتا دیتا ہوں۔ پولیس سے میری اچھی دوستی ہے۔ کئی بار پولیس ہماری مدد بھی لیتی ہے۔‘‘

ادھر، مظفر نگر کے دیویندر کے مطابق وہ چیک پوسٹ کے پولیس اہلکار کے ساتھ رہتا ہے اور اب محلے میں اس کا کافی دبدبہ ہے۔

تشدد میں پولیس متروں کا کردار؟

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اتر پردیش میں پولیس فورس کی کمی کے پیش نظر پولیس نے ’پولیس متروں‘ کا تعاون حاصل کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ان لوگوں نے سب سے زیادہ بربریت کی۔

مظفر نگر سے کانگریس کے رہنما سلمان سعید کے مطابق، بہت سے چھاپوں اور لاٹھی چارج کے دوران کافی ایسے لوگ نظر آئے جو پولیس اہلکار نہیں ہیں۔ کچھ لوگ انہیں بیرونی اضلاع کے پولیس اہلکار قرار دے رہے ہیں لیکن ان سبھی نے ’جینز‘ پہنی ہوئی تھی۔ اس معاملہ کی جانچ ہونا نہایت ضروری ہے۔

پولیس افسران کا موقف

سہارنپور کے ڈی آئی جی اوپیندر اگروال کے مطابق، یہ ’پولیس متر‘ تشدد میں ملوث تھے یہ الزام درست نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی بھی واقعہ پیش آیا ہے تو اس کی شکایت ہے تو مجھے شکایت نامہ دیا جائے، اس کی تحقیقات کرائی جائے گی۔

کانپور کے پولیس کپتان اننت دیو تیواری کے مطابق، پولیس متروں کا تعاون مختلف تہواروں، میلوں یا اہم تقریبات میں حاصل کیا جاتا ہے۔ ان کا کسی بھی طرح کے تشدد میں کوئی کردار نہیں ہے، اگر ایسا پایا جاتا ہے تو یقینی طور پر کارروائی کی جائے گی۔