غازی پور بارڈر پر کسان کی موت سے ناراض مظاہرین نے کہا ’یہ قربانی ضائع نہیں جانے دیں گے‘

باغپت سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ کسان گلتان سنگھ اپنی فیملی کے ساتھ غازی پور بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کی اچانک موت کے بعد کسانوں میں غم و غصہ کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

کسان تنظیموں کے درمیان مودی حکومت کے تئیں ناراضگی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ حالانکہ 30 دسمبر کو ہوئی میٹنگ میں مودی حکومت نے کسانوں کے دو مطالبات مان لیے تھے، لیکن کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ دو اہم مطالبات جو تین زرعی قوانین کی واپسی اور ایم ایس پی کے تعلق سے حکومت کے سامنے رکھے گئے، اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اب جب کہ 4 جنوری کو آئندہ میٹنگ طے ہے، تو امید کی جا رہی ہے کہ زرعی قوانین اور ایم ایس پی کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوگی۔ لیکن اس درمیان یکم جنوری کی صبح غازی پور بارڈر پر 57 سالہ کسان گلتان سنگھ کی موت نے مظاہرین کسانوں میں مودی حکومت کے تئیں غصہ کو ایک بار پھر بڑھا دیا۔

یو پی گیٹ یعنی غازی پور بارڈر پر آج صبح سے ہی کافی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔ جب گلتان سنگھ کی طبیعت صبح اچانک خراب ہوئی تو، انھیں فوری طور پر قریب کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن ڈاکٹر نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔ اس موت کی خبر پھیلتے ہی مظاہرین کسانوں میں غم اور غصہ دونوں کی لہر پھیل گئی۔ حالانکہ کسان لیڈروں نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی طرح کا تشدد نہیں ہونے دیا، لیکن یہ ضرور کہا کہ گلتان سنگھ کی قربانی کو وہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ غازی پور بارڈر پر کسان کی ہوئی موت کی خبر ملنے کے بعد ٹیکری بارڈر اور سنگھو بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کئی کسان لیڈران بھی غازی پور بارڈر پہنچ گئے اور گلتان سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر بھارتیہ کسان یونین لیڈر راکیش ٹکیت، اندرپال سنگھ اور آر ایل ڈی نائب صدر جینت سنگھ بھی موجود تھے۔


بھارتیہ کسان یونین لیڈر اندرپال سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کسان گلتان سنگھ اپنی فیملی کے ساتھ غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ بوقت دوپہر ان کی طبیعت خراب ہوئی تو بھارتیہ کسان یونین کے کارکنان انھیں لے کر نرسنگ ہوم پہنچے، لیکن تب تک ان کی موت ہو چکی تھی۔ پھر دوبارہ گلتان سنگھ کی لاش غازی پور بارڈر پر لائی گئی تو مظاہرین ماتم کناں نظر آئے۔ اس دوران کسان لیڈروں نے عزم ظاہر کیا کہ گلتان سنگھ اور دیگر مظاہرین کی موت کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا، حکومت کو ہر حال میں زرعی قوانین کو واپس لینے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔

اس درمیان کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی کسان گلتان سنگھ کی موت پر رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور سوال پوچھا ہے کہ وہ مزید کتنے کسانوں کی موت کے بعد سیاہ قوانین واپس لے گی۔ اس سلسلے میں انھوں نے ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’نئے سال پر ایک اور کسان کی قربانی۔ 57 سالہ باغپت کے گلتان سنگھ نے غازی پور بارڈر پر اپنی جان دے دی۔ بی جے پی حکومت قسطوں میں جان لینے کی بجائے فیصلہ کر لے کتنے سر اور چاہئیں۔ وہ خون کی پیاس بجھا لیں اور تین کالے قانون واپس لے لیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔