یوگی کی ’بہادر‘ پولیس کا کارنامہ، خاتون مظاہرین سے کمبل اور کھانے پینے کا سامان چھینا

پولیس نے لکھنؤ کے گھنٹہ گھر پر موجود مرد مظاہرین کو کھدیڑ دیا اور احتجاج کرنے والی خواتین کے سامان کو ضبط کر لیا، اس کے علاوہ ٹینٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کو جائے مظاہرہ تک نہیں جانے دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گھنٹہ گھر کے نزدیک خواتین کی جانب سے شاہین باغ کی طرز پر سی اے اے، این آر سی کے خلاف مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج جمعہ کے روز سے لگاتار جاری ہے۔ دریں اثنا، اطلاع موصول ہوئی ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اتوار کی صبح گھنٹہ گھر پر اس وقت افراتفری کا ماحول نظر آیا ملا جب پولیس نے احتجاج کرنے والی خواتین سے کھانے پینے کی اشیاء سمیت کمبل ضبط کر لئے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین خواتین کے مابین تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی۔

یوگی کی ’بہادر‘ پولیس کا کارنامہ، خاتون مظاہرین سے کمبل اور کھانے پینے کا سامان چھینا

دریں اثنا، جائے مظاہرہ پر موجود مرد مظاہرین کو پولیس نے کھدیڑ دیا۔ احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کا سامان ضبط کر لیا اور ٹینٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کو جائے مظاہرہ تک نہیں جانے دیا گیا۔ خواتین کا کہنا ہے کہ پولیس اس تحریک کو روکنے کے لئے یہ سب کر رہی ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ جب تک مرکز کی مودی حکومت سی اے اے کو واپس نہیں لیتی تحریک ان کی یہ جاری رہے گی۔

یوگی کی ’بہادر‘ پولیس کا کارنامہ، خاتون مظاہرین سے کمبل اور کھانے پینے کا سامان چھینا
یوگی کی ’بہادر‘ پولیس کا کارنامہ، خاتون مظاہرین سے کمبل اور کھانے پینے کا سامان چھینا

ادھر، یوپی کے علی گڑھ میں بھی پولیس نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یہاں، پولیس نے نامعلوم خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ علی گڑھ سول لائنز کے سی او انیل سمانیا نے بتایا کہ کچھ خواتین نے سی اے اے اور این پی آر کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کی جو دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 60 سے 70 نامعلوم خواتین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ادھر، دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف خواتین کا احتجاج لگاتار جاری ہے۔ خواتین کے اس احتجاج کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہر روز سیکڑوں لوگ یہاں پہنچتے ہیں اور سی اے اے کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتے ہیں۔ خواتین تقریباً 100 میٹر کے علاقے میں لگائے گئے عارضی خیموں میں محاذ سنبھال رہی ہیں۔