یوپی پولیس کی فرقہ پرستی انتہا پر، ٹوپی دیکھ کر گرفتاری، داڑھی نوچی، تھوک چٹوایا!

یوپی میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے رویہ پر آئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاستی پولیس مکمل طور پر فرقہ پرست ہو چکی ہے اور گرفتار لوگوں کو ’اربن نکسل‘ اور ’پاکستانی‘ بتاتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اسد رضوی

اسد رضوی

اترپردیش میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کے رویہ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی پولیس مکمل طور پر ’فرقہ پرست‘ ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار افراد کو پولیس ’پاکستانی‘ اور ’شہری نکسل‘ (اربن نکسل) کہہ کر مار رہی ہے۔

خواتین کی تنظیم آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسو سی ایشن (اے آئی ڈی ڈبلیو اے، ایڈوا) کے ذریعہ پیش کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 19 دسمبر 2019 کو ہونے والے احتجاج کے بعد پولیس نے مسلم طبقہ اور سول سوسائٹی کو نشانہ بنایا۔ ’ایڈوا‘ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ 19 دسمبر کو گرفتار ہونے والوں میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لوگ بھی شامل تھے، لیکن تھانہ حضرت گنج پولیس نے رہنماؤں کی کال آنے کے بعد ان کے خلاف نہ کوئی مقدمہ لکھا اور نہ ہی انہیں جیل بھیجا گیا۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے انتقام لینے والے بیان کے بعد پولیس نے مسلم علاقوں میں چھاپے مار کی۔ پولیس نے راجدھانی لکھنؤ کے حسین آباد، کھدرا (حسن گنج) اور مولوی گنج (امین آباد) علاقوں میں نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔ ایڈوا کی رپورٹ کے مطابق پولیس ٹوپی اور داڑھی دیکھ کر ہی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پولیس میں اقلیتی برادری کے خلاف اس قدر نفرت بھری ہے کہ پولیس مسلمانوں کی داڑھیاں تک نوچ رہی تھی! کھدرا علاقہ میں ایک شخص کے ہاتھ پر پولیس نے تھوکا اور پھر اسے چاٹنے کو کہا!

پولیس نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ بزرگوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حضرت گنج کے سول اسپتال سے لوٹ رہے محمد نسیم (68) کو پولیس نے 19 دسمبر 2019 کو گرفتار کیا اور حراست میں ان کو ’پاکستانی ملا‘ کہہ کر پکارا گیا! پولیس نے محمد نسیم کو پانی تک نہیں دیا۔ جب انہیں طبی معائنے کے لئے اسپتال لے جایا جارہا تھا، تو گاڑی میں بیٹھے ایک شخص نے ان کی ران میں پینچ کس گھسا دیا!

ہوٹل منیجمنٹ کا کورس کر چکے محمد فیض (24) بھی شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج کرنے گئے تھے لیکن پولیس نے انہیں جائے مظاہرہ (پریوورتن چوک) تک نہیں جانے دیا۔ فیض نے جب دیکھا یہ مظاہرہ پُر تشدد ہو رہا ہے تو وہ اپنے دوستوں فیصل (24) اور فہد (23) کے ساتھ شرما ٹی اسٹال پر چائے پینے چلے گئے۔

شام کے تقریباً ساڑھے پانچ بجے جب یہ لوگ اپنی اسکوٹی لینے پریوورتن چوک پہنچے تو پولیس نے انھیں پوچھ گچھ کے لئے بلایا۔ خواتین کی تنظیم ایڈوا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے جیسے ان کا مسلم نام سنا، انہیں ’پاکستانی‘ ، ’ملا‘ اور جہادی وغیرہ کہا اور گالیاں دینا شروع کر دیں اور مارتے ہوئے انہیں حضرت گنج پولیس اسٹیشن لے گئی۔ فیض کو اب ضمانت مل چکی ہے، وہ فٹ بال کے کھلاڑی ہیں اور ہندوستان کے لئے بین الاقوامی سطح پر کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس کی بہت تکلیف ہے کہ تحویل میں پولیس نے انہیں ’قوم کا غدار‘ کہا!

حفیظ الرحمن (28) کو احتجاج کے 5 دن بعد 5 دسمبر 2019 کو ان کے گھر سے طلب کیا گیا، جبکہ مظاہرے کے دن اپنے کینسر سے متاثرہ والد کی دوا لینے آشیانہ گئے ہوئے تھے۔ سول کورٹ میں فوکیدار حفیظ الرحمن کو فون پر اطلاع ملی کہ ان کا نام اخبار میں فسادی کے طور پر شائع ہوا ہے۔ جب وہ اخبار دیکھنے گھر سے نکلے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔

جب مقامی لوگوں نے حفیظ الرحمن کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو پولیس نے انھیں ’پاکستانی‘ کہہ کر کھدیڑ دیا۔ ان کی گرفتاری کئے خلاف تھانے پر خواتین نے بھی احتجاج کیا لیکن خاتون پولیس کی دو گاڑیاں طلب کر لی گئیں اور خاتون مظاہرین کو تھانے سے باہر نکال دیا گیا۔ حفیظ الرحمن کو شام ہونے سے پہلے جیل بھیج دیا گیا۔

کھیلوں میں متعدد تمغے جیتنے والے اسامہ (20) کو بھی فساد میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جبکہ بی کام فرسٹ ایئر کے طالب علم اسامہ 19 دسمبر 2019 کو بیڈمنٹن کھیل رہے تھے اور ان کے اہل خانہ کے پاس ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ اپنے نانا کے انتقال کے بعد ان کی قبر کے لئے جگہ دیکھنے جا رہے استھما کے مریض محمد صمد (20کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ شدید علالت کے باوجود پولیس نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور ان کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ اگرچہ ان کو جیل نہیں بھیجا گیا ہے لیکن ان کے اہل خانہ کو بھی یہ ثبوت پیش کرنے کے لئے نوٹس ملا ہے کہ وہ مظاہرے میں شامل نہیں تھے۔

پولیس صرف مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کے ساتھ بھی نازیبا سلوک کیا۔ پولیس تحویل میں سماجی کارکن دیپک کبیر پر تھرڈ ڈگری استعمال کی گئی جبکہ پروفیسر رابن ورما کو حضرت گنج تھانے پر مظاہروں کی پاداش میں زد و کوب کیا گیا۔ ایک طرف جہاں مسلمانوں کو پولیس نے ’جہادی‘ وغیرہ کہتے ہوئے مارا پیٹا، وہیں سماجی کارکنوں کو ’اربن نکسل‘ کہہ کر پیٹا گیا۔

Published: 16 Jan 2020, 10:29 PM