زرعی بلوں کے خلاف احتجاج جاری، پنجاب کے کسانوں کی ’ریل روکو‘ تحریک کا تیسرا دن

ملک بھر کے کسان مودی حکومت کے زراعت سے متعلق اصلاحات کے بلوں کی پُر زور مخالفت کر رہے ہیں، ہریانہ اور پنجاب میں شدید احتجاج ہو رہا ہے اور پنجاب کے کسانوں کی ریل روکو تحریک کا آج تیسرا دن ہے

زرعی بلوں کے خلاف احتجاج کرتے پنجاب کے کسان / تصویر یو این آئی
زرعی بلوں کے خلاف احتجاج کرتے پنجاب کے کسان / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے زرعی اصلاحات سے متعلق بلوں کی منظوری کے خلاف مختلف کسان تنظیمیں ملک بھر سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، بہار، کیرالہ، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کی اہم قومی اور ریاستی شاہراہیں جام رہیں۔ کئی ریاستوں میں پولیس نے سڑک کا جام ہٹانے کے لئے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا لیکن کسان اپنی جگہ پر ڈٹے رہے۔ پنجاب کے کسانوں کی طرف سے چلائی جا رہی ریل روکو تحریک کا آج تیسرا دن ہے۔

پنجاب میں کسانوں نے جمعرات سے ہی اپنا احتجاج شروع کر دیا تھا اور ریاست سے گزرنے والی متعدد ریلوے لائنوں پر غیر معینہ مدت کے دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ ریلوے نے ہفتہ کے روز تک دونوں ریاستوں سے گزرنے والی 20 سے زیادہ ٹرینوں کی آمدورفت منسوخ کردی ہے۔ امرتسر سے چلنے والی 12 ٹرینیں منسوخ کردی گئیں اور امرتسر جانے والی ٹرینوں کو انبالہ میں روک دیا گیا۔ کچھ ٹرینوں کے لئے روٹ تبدیل کردیا گیا ہے۔

کسانوں کی اس تحریک کو دونوں ریاستوں میں کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور پنجاب میں شیرومینی اکالی دل (ایس اے ڈی) اور انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی)، اڑھتی تنظیموں اور ہریانہ میں ہریان سروکسان سنگٹھن کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کسانوں کی تحریک کی حمایت میں بہت سارے پنجابی گلوکار بھی سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں چودہ سابق آئی اے ایس افسران کسانوں کی تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے اس بل کو واپس نہیں لیا تو ہفتہ کے روز سے اس تحریک کی شکل بد دی جائے گی۔ تنظیموں نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے بھی زراعتی اصلاح کے بل پر دستخط نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ زراعت ان کی زندگی کی سب سے بڑی اساس ہے اور منظور شدہ زراعتی اصلاح کے بل کے ذریعہ اس کو ختم کردیا جائے گا۔ ان کی زمینیں چھین لی جائیں گی۔ پرائیویٹ کمپنیاں کھیتی باڑی سنبھال لیں گی۔ منڈیاں اور ایم ایس پی کا بندوبست ختم ہوجائے گا۔

Published: 26 Sep 2020, 11:11 AM
next