اردو ادب کی پروقار شخصیت پروفیسر قاضی عبدالستار نے دنیائے فانی کو کہا الوداع

پدم شری پروفیسر قاضی عبدالستار تقریباً ڈیڑھ مہینے سے دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں علاج کرا رہے تھے اور اتوار کی شب یہاں انھوں نے آخری سانس لی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اردو کے مشہور و معروف ادیب پدم شری پروفیسر قاضی عبدالستار کا اتوار کی شب طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ 85 سالہ قاضی عبدالستار نے اپنی آخری سانس دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں لی۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے اسپتال میں داخل تھے۔ اے ایم یو کے شعبۂ اردو سے سبکدوش ہوئے پروفیسر قاضی عبدالستار کے انتقال کی خبر سے دنیائے ادب میں غم و اندوہ کی لہر ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسومات علی گڑھ میں ادا کی جائیں گی۔

علی گڑھ میں موجود پروفیسر قاضی عبدالستار کے قریبی احباب کے مطابق سر گنگا رام اسپتال میں انتقال کے بعد انھیں دہلی واقع ان کے بیٹے کے گھر لے جایا گیا جس کے بعد علی گڑھ کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ علی گڑھ پہنچے پر ان کی بیٹی کے مکان اے ڈی اے کالونی سرسید نگر میں رکھا جائے گا اور یہیں سے مسلم یونیورسٹی کے قبرستان لے جایا جائے گا جہاں بعد نماز عصر ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور پھر تدفین کا عمل مکمل ہوگا۔

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ قاضی عبد الستار کے ایک سے زیادہ شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مداحوں کی بھی فہرست طویل ہے۔ وہ ایک انتہائی اچھے استاد تھےاور مرحوم کا شمار اپنے عہد کے نمایاں افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا-ان کے افسانوں میں پیتل کا گھنٹہ اور ناولوں میں حضرت جان اور داراشکوہ بہت مقبول ہوئے- ان کو زبان و بیان پر جو غیر معمولی قدرت حاصل تھی اس کا اندازہ ان کی تحریروں سے بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے عزیز شاگرد مسٹر عبید صدیقی کے مطابق زندگی کے آخری برسوں میں ان کو بہت سے صدمات سے دوچار ہونا پڑا مگر انهوں نے اپنی پریشانیوں کا اظہار اپنے چہرے بشرے اور وضع قطع سے کبھی نہیں ہونے دیا۔ عبید صدیقی نے مرحوم کی زندگی اور ادبی کارناموں پر ان کی زندگی میں ہی ایک دستاویزی فلم بنائی تھی جو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔

واضح رہے کہ قاضی عبدالستار کی پیدائش اتر پردیش کے سیتا پور میں 1933 میں ہوئی تھی۔ انھیں 1974 میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ بعد ازاں 1977 میں میر ایوارڈ، 2002 میں بہادر شاہ ظفر ایوارڈ، 2005 میں انٹرنیشنل ایوارڈ- دوحہ (قطر)، 2006 میں راشٹریہ اقبال ایوارڈ اور 2008 میں پہلا یونیورسٹی اردو ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے کئی چھوٹے بڑے اعزازات حاصل کیے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔