حکومت نے چندریان 3پروجیکٹ کو منظوری دے دی: اِسرو سربراہ

اسرو کے سربراہ سیون نے میڈیا کو بتایا کہ ’’خلائی ایجنسی اسی مقام پر چندریان 3کی لینڈنگ کروانا چاہتی ہے جس مقام پر چندریان 2 کے لینڈر کی کریش لینڈنگ ہوئی تھی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی (اسرو)کے سربراہ کے سیون نے ایک اہم جانکاری دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے چندریان 3پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے۔انہوں نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دوسری خلائی بندرگاہ کے لئے اراضی کے حصول کا کام شروع کیا گیا ہے اور اس خلائی بندرگاہ کی تعمیر تمل ناڈو کے تھوٹوکنڈی میں عمل میں لائی جائے گی۔

اسرو کے سربراہ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران چندریان 2پر بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم نے چندریان2پر کافی پیشرفت کی،حالانکہ ہم اس کو کامیابی کے ساتھ چاند کے جنوبی قطب پر نہیں اتارسکے،یہ آربیٹر ہنوز کام کررہا ہے،یہ آئندہ سات سال تک کام کرے گا تاکہ سائنس ڈاٹا بھیج سکے“۔

چندریان-3 سے متعلق تفصیل پیش کرتے ہوئے سیون نے کہا کہ ’’چندریان 3کی تربیت کا کام اس کے (چندریان-2 کے) پیشرو کی طرز پرکیاجائے گا۔چندریان 3میں بھی لینڈر اور روور ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ چاند کے تیسرے مشن سے متعلق تمام سرگرمیاں آسانی کے ساتھ جاری ہیں۔چندریان 3سے دیگر سٹلائیٹس کے پروگرام متاثر نہیں ہوں گے۔

چندریان 3کے علاوہ اسرو کے سربراہ نے 2020 میں 25سے زائد مشن کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے چندریان 3کے لینڈنگ کے مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’’خلائی ایجنسی اسی مقام پر چندریان 3کی لینڈنگ کروانا چاہتی ہے جس مقام پر چندریان 2 کے لینڈر کی کریش لینڈنگ ہوئی تھی۔‘‘ دراصل یہ کریش لینڈنگ چاند کی سطح سے کچھ لمحوں کے فاصلہ پر ہوئی تھی۔سیون نے چندریان 3کے مصارف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لینڈر اور روور پر 250کروڑ روپئے کے اخراجات آئیں گے۔اس مشن کے جملہ اخراجات 250اور 365کروڑروپئے ہوں گے۔