مغربی بنگال: پولنگ کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی، مسلمانوں کو بنایا جا رہا نشانہ

دفعہ 44 نافذ ہونے کے باوجود مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کانکی ناڑہ ریلوے اسٹیشن کے باہر بھی دیسی بم برآمد ہوئے ہیں۔ پولس آفیسر نے کہا کہ اب تک اس معاملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: شمالی 24 پرگنہ کے بھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے میں 19جنوری کو ضمنی انتخاب کے بعد سے ہی کانکی ناڑہ میں فرقہ وارانہ تناؤ کا ماحول ہے۔ خوف کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ گھر چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ کا نشانہ مقامی مسلمان ہو رہے ہیں، شمال مشرقی ریلوے کے مطابق سیالدہ ڈویژن احتجاج کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوجانے اور ارجن سنگھ کے استعفیٰ کی وجہ سے پھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب ہوئے تھے۔ علاقے میں دفعہ 44 نافذ ہونے کے باوجود مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کانکی ناڑہ ریلوے اسٹیشن کے باہر بھی دیسی بم برآمد ہوئے ہیں۔ پولس آفیسر نے کہا کہ اب تک اس معاملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

بھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقے سے کانگریس کے امیدوار خواجہ احمد حسین نے یواین آئی کوبتایا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ میں مسلم گھروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارجن سنگھ جن کے بیٹے پون سنگھ بی جے پی امیدوار ہیں اور ترنمول کانگریس امیدوار مدن مترا کے حامیوں کے درمیا ن جھڑپ ہو رہی ہے مگر پولس و مقامی انتظامیہ لوگوں کی جان و مال کو بچانے میں ناکام ہیں، انہوں نے کہا کہ جن گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے بیشتر افراد جوٹ مل میں کام کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ رہا ہے۔ مختلف ریاستوں سے آکر آباد ہونے والے اس علاقے میں زیادہ تر لوگ جوٹ ملوں میں کام کرتے ہیں۔ مگر بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں فرقہ واریت کیلئے ذمہ دار ہے۔

شمال مشرقی ریلوے کے ترجمان نے کہا کہ 8.43 بجے صبح سے 12 بجے تک سیکڑوں افراد نے کانکی ناڑہ ریلوے اسٹیشن پر دھرنا دیا جس کی وجہ سے کئی لوکل ٹرینوں کو رد کرنا پڑا۔ بھاٹ پاڑہ اسمبلی حلقہ ارجن سنگھ کا مضبوط گڑھ رہا ہے، وہ یہاں سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر 4 مرتبہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، اس مرتبہ لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملنے کی وجہ سے بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور بی جے پی کے ٹکٹ پر بارکپور لوک سبھا حلقے سے انتخاب لڑا تھا۔

ترنمول کانگریس کے امیدوار اور سینئر لیڈر مدن مترا نے کہا کہ ارجن سنگھ کے حامی جان بوجھ کر ایک خاص فرقے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حامیوں کی سیکڑوں دوکانوں میں آگ لگادی گئی ہے اور گھروں کو لوٹ لیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پورے علاقے میں دفعہ 144نافذ کردی ہے۔ ڈپٹی کمشنر (زون آئی) بارکپور پولس کمشنر کے کھنہ نے کہا کہ 70 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 27مئی تک اس علاقے میں 200مرکزی فورسیس کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد مسلم تنظیموں نے حکومت مغربی بنگال سے فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے جن لوگوں کے گھروں اور دوکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے انہیں معاوضہ دیا جائے۔

قاری احمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر زید انوار محمد نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی، اے ڈی جی پی لا اینڈ آرڈر، چیف الیکٹرولر آفیسر عارض آفتاب اور وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کانکی ناڑہ سے تشویش ناک خبریں موصول ہو رہی ہیں، بڑی تعداد میں مسلمان گھر چھوڑ کر محفوظ جگہ پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، گھروں اور دوکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس لیے حکومت سخت کارروائی کرتے ہوئے فسادیوں کو قابو میں کرے۔

Published: 21 May 2019, 10:10 PM