گیانواپی معاملہ: قابل اعتراض پوسٹ کرنے پر دہلی سے پروفیسر اور سہارنپور سے ایک شخص گرفتار

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال اور سہارنپور کے ایک شخص کو گیانواپی مسجد میں ملے مبینہ شیولنگ پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال نے وارانسی کی گیانواپی مسجد میں مبینہ طور پر شیولنگ ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ پوسٹ کیا تھا۔دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے پروفیسر رتن لال نے گیانواپی مسجد میں پائے جانے والے مبینہ شیولنگ کی متنازعہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ جس کے لیے اب دہلی پولیس نے انہیں جمعہ کی رات گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال کے خلاف شمالی ضلع کے سائبر سیل میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے پروفیسر رتن لال نے گیانواپی مسجد میں پائے جانے والے مبینہ شیولنگ کی متنازعہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہندو فریق کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مقصد سے کی گئی اس پوسٹ کے خلاف ایک وکیل نے شمالی ضلع کے سائبر سیل میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس معاملے میں پروفیسر رتن لال کو جمعہ کی دیر رات گرفتار کیا گیا ہے۔


آپ کو بتاتے چلیں کہ جب معاملے نے آگ پکڑی اور اس پر کارروائی کے لیے رپورٹ درج کرائی گئی تو پروفیسر نے اپنی پوسٹ بھی ڈیلیٹ کر دی تھی۔ پروفیسر رتن لال ہندو کالج کے شعبہ تاریخ میں پروفیسر ہیں۔

اتر پردیش کے وارانسی میں گیانواپی مسجد معاملے سے متعلق سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے پر پولیس نے جمعہ کو سہارنپور سے بھی ایک نوجوان کو گرفتار کیا۔ سہارنپور تھانہ ناکود کے انسپکٹر نریش کمار نے بتایا کہ اس معاملے میں 21 سالہ ناصر ولد سلطان نے شیولنگ سے مشابہت رکھنے والی مختلف اشیاء کو واٹس ایپ کے ذریعے وائرل کیا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے آج مقامی عدالت میں پیش کیا اور جیل بھیج دیا۔


انسپکٹر نریش کمار اور ناکوڈ کے سی او اروند سنگھ پنڈیر نے بتایا کہ واٹس ایپ پر پوسٹ کی گئی قابل اعتراض پوسٹ کی شکایت چھاپور گاؤں کے رہنے والے ابھی گوجر نے کل رات کوتوالی ناکود میں درج کرائی تھی۔ ابھی کی شکایت پر پولیس نے ملزم ناصر ولد سلطان کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔