پولس بربریت کے خلاف پرینکا گاندھی کا انڈیا گیٹ پر دھرنا

جامعہ اور اے ایم یو میں طالب علموں کے ساتھ ہوئی بربریت کے خلاف کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے انڈیا گیٹ پر دھرنا دیا، ان کے ساتھ بڑی تعداد میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور کارکن موجود تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ رات جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علموں پر پولس بربریت کے خلاف کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے لیڈر انڈیا گیٹ پر دھرنا دیا، طالب علموں پر پولس بربریت کے خلاف یہ ایک علامتی دھرنا تھا، پرینکا گاندھی کے ساتھ انڈیا گیٹ پر کانگریس کے کئی سینئر لیڈر بھی موجود رہے۔ اس دوران پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ملک غنڈوں کی جاگیر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ "حکومت نے آئین کو بہت بڑا جھٹکا دیا ہے، یہ ملک کی روح پر حملہ ہے، کیونکہ نوجوان قوم کی روح ہیں۔ مظاہرہ کرنا طالب علموں کا حق ہے‘‘۔

پرینکا گاندھی نے کہا، ’’میں بھی ایک ماں ہوں، آپ نے ان کی لائبریری میں داخل ہوئے، ان کے گھسیٹتے باہر نکالا اور ان کی وحشیانہ طریقے سے پٹائی کی، یہ ایک ظلم ہے، کانگریس کا ایک ایک کارکن اس ظلم کے خلاف لڑے گا اور طالب علموں کے ساتھ کھڑا ہوگا‘‘ـ

انڈیا گیٹ پر پرینکا گاندھی کے ساتھ تنظیم کے سیکرٹری جنرل سکریٹری وینو گوپال، سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی، احمد پٹیل، امبيكا سونی، یوتھ کانگریس صدر سرینواس سمیت پارٹی کے کئی بڑے لیڈر بھی دھرنے پر بیٹھے، اس دوران انڈیا گیٹ پر لوگوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ارد گرد کے تین میٹرو اسٹیشن بند کر دییے گئے ہیں۔ دہلی میٹرو نے ایک بیان جاری کر بتایا ہے کہ لوک کلیان مارگ، پٹیل چوک، سنٹرل سکریٹریٹ، ادھوگ بھون میٹرو کی انٹری اور ایگزٹ گیٹ کو بند کر دیا گیا ہے، ان میں پٹیل چوک اور ادھوگ بھون میٹرو اسٹیشن پر میٹرو کا توقف نہیں ہوگا۔

اس سے پہلے دھرنے کی معلومات دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان رنديپ سرجے والا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور اے ایم یو کے طالب علموں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے پرینکا گاندھی دو گھنٹے کے لئے انڈیا گیٹ پر دھرنے پر بیٹھیں گیں۔ اس کے علاوہ پرینکا گاندھی کا یہ دھرنا خواتین کے تحفظ کے مسئلے کو لے کر بھی ہے۔ گزشتہ رات جامعہ میں پولس کارروائی میں بہت سی طالبات بھی زخمی ہوئی ہیں، ان طلبا کا الزام ہے کہ دہلی پولس نے ان پر حملہ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی ہے۔

غور طلب ہے کہ اتوار کو شہریت ترمیم قانون کے خلاف جامعہ علاقے میں مظاہرے کے دوران تشدد بھڑکنے کے بعد پولس نے جامعہ یونیورسٹی کے اندر گھس کر لائبریری میں مطالعہ کر رہے طالب علموں و طالبات کو بربریت سے پیٹا۔ پولس کے اس وحشیانہ حملہ میں بہت سے طالب علم اور طالبات زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران پولس نے لائبریری میں مطالعہ کر رہے بہت سے طالب علموں کو حراست میں بھی لیا تھا۔ لیکن دیر رات جے این یو طالب علم یونین، سول سوسائٹی اور کانگریس رہنماؤں کی طرف سے دہلی پولس ہیڈ کوارٹر کے گھیراؤ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔