کیرالہ میں وزیر اعظم مودی اور ایل ڈی ایف پر جم کر برسیں پرینکا گاندھی، پینارائی وجین کو ’مودی کی بی-ٹیم‘ قرار دیا
کیرالہ میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’کیرالہ آزادئ اظہار، تعلیم، مساوات اور ہمدردی کی روایات کا علمبردار ہے، جو ہندوستان کی حقیقی روح کی علامت ہے۔‘‘
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعرات کو کیرالہ کے چیراینکیزو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیرالہ کے عوام کی جم کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیرالہ آزادئ اظہار، تعلیم، مساوات اور ہمدردی کی روایات کا علمبردار ہے، جو ہندوستان کی حقیقی روح کی علامت ہے۔‘‘
پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’یہ نارائن گرو جی جیسے انقلابی مفکرین کی سرزمین ہے۔ وہ مہاتما گاندھی جی کے لیے بڑی تحریکوں میں سے ایک تھے اور کئی معنوں میں، آپ آج بھی ان روایات کو جی رہے ہیں۔‘‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کیرالہ آزادئ اظہار، تعلیم، مساوات اور ہمدردی کی روایات کے لیے جانا جاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ کیرالہ کا جذبہ ہی ہندوستان کا حقیقی جذبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی کیرالہ کے لوگ ان اقدار پر عمل پیرا ہیں، جو پورے ہندوستان کے لیے ایک مثال ہیں۔
خطاب کے دوران پرینکا گاندھی نے مغربی ایشیا کے معاملے پر بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم بحث تھی، لیکن وزیر اعظم کا اس میں شامل نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اور خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق ملک کے فیصلوں کا اثر عام لوگوں پر پڑ رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت عوام کی ضروریات کو نظر انداز کر رہی ہے اور بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے ریاست میں روزگار کی کمی، خاص طور سے نرسوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کم تنخواہوں اور مواقع کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عملے کی کمی اور صحت کے نظام کی بگڑتی ہوئی حالت کا بھی مسئلہ اٹھایا۔
پرینکا گاندھی کے مطابق چائے، کافی، کیلا اور ڈیری جیسے شعبے مہنگائی اور سرکاری سرپرستی کی کمی کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں۔ آشا اور آنگن واڑی کارکنان کے طویل احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا ہے۔
واضح رہے کہ چیراینکیزو اسمبلی حلقہ، جو کیرالہ کے 140 اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے اور اٹنگل پارلیمانی حلقے کا حصہ ہے، گزشتہ 3 اسمبلی انتخابات سے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے قبضے میں ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخاب میں یہاں سے یو ڈی ایف کی امیدوار رمیا ہری داس ہیں، جو 2019 سے 2024 تک پلکڑ کے التھور لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ تھیں۔ ہری داس کا مقابلہ سی پی آئی کے منوج بی ایڈامنا اور بی جے پی کے بی ایس انوپ سے ہوگا۔ واضح رہے کہ انوپ نے 2021 کے اسمبلی انتخاب میں چیراینکیزو سیٹ سے یو ڈی ایف کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا۔
اس درمیان کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے 2026 کے کیرالہ انتخاب کے لیے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستھیسن کی موجودگی میں جاری کیے گئے اس منشور میں کئی بڑے وعدے کیے گئے ہیں:
خواتین کے لیے مفت بس سفر
سماجی بہبود کی پنشن کو 3000 تک بڑھانا
طالبات کو 1000 روپے ماہانہ مالی امداد
25 لاکھ روپے تک کی انشورنس اسکیم
روزگار اور کسانوں پر خصوصی توجہ
انتخابی منشور میں 5 سال کے دوران 5 لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے
کسانوں کے لیے ربڑ اور دھان کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافے کی بات کہی گئی ہے
غریب خاندانوں کے لیے ’نیائے اسکیم‘ کے تحت 6 ہزار روپے ماہانہ امداد کی تجویز بھی شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کیرالہ کی 140 رکنی اسمبلی کے لیے پولنگ9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 23 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔