پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم سے مطالبہ ’اپنے وزیر مملکت اجے مشرا کو برخاست کریں‘

پرینکا گاندھی نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے وزیر اعظم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ لکھیم پور کھیری واقعہ کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے

پرینکا گادنھی / تصویر ٹوئٹر
پرینکا گادنھی / تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: زرعی قوانین کی واپسی کے بعد سیاسی لیڈران کی جانب سے رد عمل ظاہر کرنے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ حزب اقتدار کی جانب سے جہاں مودی حکومت کے اس فیصلہ کو ماسٹر اسٹروک قرار دیا جا رہا وہیں، حزب اقتدار کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ اس کی ناکامی کا آئینہ دار ہے۔

اسی ضمن میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ایک طرف مرکزی حکومت کے قوانین واپسی کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا وہیں، دوسری طرف وزیر اعظم مودی کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے لکھیم پور کھیری واقعہ کے متاثرین کو انصاف فراہم کئے جانے کا مطالبہ کیا۔


پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم کو ارسال کئے گئے مکتوب کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج لکھنؤ میں ہیں اور میں نے انہیں مکتوب ارسال کرکے لکھیم پور کھیری معاملہ میں متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’نریندر مودی جی اگر مل کے کسانوں کے تئیں آپ کی نیت حقیقتاً صاف ہے تو آج اپنے مرکزی وزیر مملک کے ساتھ اسٹیج پر براجمان مت ہوئیے، ان کو برخاست کیجئے۔‘‘

وزیر اعظم کو ارسال کئے گئے خط میں پرینکا گاندھی نے کہا، ’’وزیر اعظم صاحب! لکھنؤ آمد پر آپ کا خیرمقدم ہے۔ کل آپ نے تین سیاہ قوانین کو کسانوں پر مسلط کرنے کے ظلم کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں واپس لینے کا اعلان کیا۔ میں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ آپ آج لکھنؤ میں منعقد ہونے جا رہی ڈی جی پی کانفرنس میں ملک کے نظم و نسق کو سنبھالنے واالے افسران سے تبادلہ خیال کریں گے۔


لکھیم پور کے کسانوں کے قتل عام کے دوران انداتاؤں پر ڈھائے جانے والے ظلم کو پورے ملک نے دیکھا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کسانوں کو اپنی کار سے کچلنے کا مرکزی ملزم آپ کی حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا بیٹا ہے۔ سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے میں اتر پردیش حکومت نے شروع سے ہی انصاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ معزز سپریم کورٹ نے اس تناظر میں کہا کہ حکومت کی نیت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت کسی خاص ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

میں لکھیم پور کے شہید کسانوں کے اہل خانہ سے ملی ہوں۔ وہ ناقابل برداشت درد میں ہیں۔ تمام خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے شہید کے رشتہ داروں کے لیے انصاف چاہتے ہیں اور انہیں انصاف کی اس وقت تک کوئی امید نہیں ہے، جب تک اجے مشرا مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کی حیثیت سے عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ لکھیم پور کسان قتل عام کیس کی تحقیقات کی حالیہ صورتحال ان خاندانوں کے خدشات کو درست ثابت کرتی ہے۔ ملک کی امن و امان کی صورتحال کے ذمہ دار مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ آپ کے اسی وزیر کے ساتھ اسٹیج شیئر کر رہے ہیں۔


آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں، آپ کو ملک کے کسانوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس ہوگا۔ ہر وطن عزیز کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا وزیر اعظم کا فرض ہی نہیں بلکہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ گزشتہ روز اہل وطن سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ کسانوں کے مفاد کو سچے اور پاکیزہ دل سے دیکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا بے مثال فیصلہ کیا گیا ہے۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ ملک کے کسانوں کے تئیں آپ کی نیت اچھی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو لکھیم پور کسان قتل عام کے متاثرین کو انصاف ملنا بھی آپ کے لیے اہم ہونا چاہیے۔

لیکن، مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی اب بھی آپ کی کابینہ میں اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ اگر آپ پریس کانفرنس میں ملزم کے والد کے ساتھ سٹیج شیئر کریں گے تو مقتولین کے اہل خانہ کو واضح پیغام جائے گا کہ آپ آج بھی قاتلوں کو تحفظ دینے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ کسان تحریک کے دوران میں شہید ہونے والے 700 سے زیادہ کسانوں کی بہت بڑی توہین ہوگی۔


پرینکا گاندھی نے مکتوب کے آخر میں کہا، اگر ملک کے کسانوں کے تئیں آپ کی نیت صاف ہے تو اپنے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے ساتھ اسٹیج پر نہ بیٹھیں، انہیں برطرف کریں۔ ملک بھر میں کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیں اور تمام شہید کسانوں کے لواحقین کو مالی امداف فراہم کی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔