ہریانہ: کورونا بحران میں اسپتال بھی بنا ظالم، علاج کے نام پر مریضوں سے لوٹ

فرید آباد اسمبلی حلقہ سے کانگریس رکن اسمبلی نیرج شرما نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا کے علاج کے نام پر جاری لوٹ کا انکشاف کیا ہے۔

منوہر لال کھٹر/ تصویر آئی اے این ایس
منوہر لال کھٹر/ تصویر آئی اے این ایس
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ میں ایک طرف لوگ جہاں کورونا بحران سے نبرد آزما ہیں، وہیں دوسری طرف اسپتالوں کی منمانی ان پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے۔ علاج کے نام پر مریضوں سے وصولے جا رہے تمام طریقے کے بل ریاست میں بدعنوانی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ پوری ریاست میں کورونا مریضوں سے ہو رہی اس طریقے کی لوٹ کے درمیان سامنے آیا ہے فرید آباد کے ڈی ایم ہاسپیٹل کا معاملہ جس نے منمانی وصولی کے الزامات پر مہر لگا دی ہے۔ حالت یہ ہے کہ اس اسپتال کا مینجمنٹ مریض کے کھانے کے نام پر 1200 روپے اور پی پی ای کٹ کے 3000 روپے روزانہ کے حساب سے وصول کر رہا ہے۔

فرید آباد دراصل ہریانہ میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں اب تک 89444 کورونا پازیٹو کیس سامنے آ چکے ہیں، جب کہ تقریباً 600 لوگ کورونا سے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں۔ حقیقی معنوں میں تو تصویر مزید خوفناک بتائی جا رہی ہے۔ اس حالت میں شہر میں مریضوں سے ہو رہی لوٹ کی ایک تصویر سامنے آئی ہے۔ معاملہ ڈی ایم نامی کے ایک پرائیویٹ اسپتال کا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے مریض سے چار دن کے ایک لاکھ 47 ہزار 675 روپے وصول کیے ہیں۔


اس بل میں آئی سی یو بیڈ کے 11 ہزار روپے روزانہ کے حساب سے 44 ہزار روپے، آئی سی یو ڈاکٹر وزِٹ کے 16000 روپے، چیسٹ کے ماہر ڈاکٹر کے 10 ہزار روپے، نرسنگ اسٹاف کے 8 ہزار روپے، دیکھ ریکھ (مانیٹرنگ) کے 8 ہزار روپے، میڈیسین کے 35 ہزار روپے، آکسیجن کے 10 ہزار روپے اور 4 دن کے 1200 روپے روزانہ کے حساب سے 4800 روپے کھانا فراہم کرنے کے لیے گئے۔ میڈیسین کے 35 ہزار روپے اور 12000 روپے پی پی ای کٹ اور ایک ہزار روپے دستانہ کے بھی شامل ہیں۔

ریاست میں یہ حال تب ہے جب حکومت کی طرف سے ہر چیز کی قیمت طے کر دی گئی ہے۔ یہ معاملہ مرکزی وزیر مملکت کرشن پال گوجر اور ریاست کے وزیر ٹرانسپورٹ مول چند شرما کی موجودگی میں ضلع صلاح کار کمیٹی کی میٹنگ میں اٹھایا گیا۔ فرید آباد اسمبلی حلقہ سے کانگریس رکن اسمبلی نیرج شرما نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا کے علاج کے نام پر چل رہی لوٹ کا انکشاف کیا ہے۔


نیرج شرما کا کہنا ہے کہ این آئی ٹی پانچ نمبر واقع ڈی ایم اسپتال کی اس لوٹ سے سنگین سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ کانگریس رکن اسمبلی نے اس مریض کے بل میں درج ان رقوم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو بیڈ کا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے اس بابت ضلع ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر اس کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور ضلع سطحی نگرانی کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں وصولی گئی رقم کا آڈٹ کروایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی پرائیویٹ اسپتال نے علاج کی فیس کا بورڈ تک نہیں لگوایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔