وزیر اعظم جموں و کشمیر کے حالات کو فوراً بحال کریں: امام بخاری

امام بخاری نے کہا آج ہندوستانی مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ریاست اور ادارے کہاں ہیں۔ ہم اپنے تحفظ کے سلسلے میں کس سے فریاد کریں؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ خصوصی دلچسپی لے کر جموں و کشمیر کے حالات کو فوراً بحال کریں تاکہ ہندوستان دشمن عناصر کی ریشہ دوانیاں کامیاب نہ ہونے پائیں۔

امام بخاری نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے سلسلے میں قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے آنے والی خبریں تشویش کا باعث ہیں۔ انسانی حقوق کے بعض بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں نے صورت حال کی سنگینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایسے میں ”وزیر اعظم کو اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے کر کشمیر کے حالات کو فوری طور پر بحال کرنا چاہیے تاکہ ملک دشمن اندرونی و بیرونی طاقتیں ہماری جمہوریت اور انسانیت پرستی کی پالیسی کو داغدار نہ کر سکیں۔“

امام بخاری نے کشمیر میں مین اسٹریم کے سیاسی رہنماوں کی گرفتاری یا نظر بندی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”وہ سیاست داں جنھوں نے وادی میں ہمیشہ ہندوستانی آئین اور ترنگے کو بلند رکھا ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ آج وہ کس حال میں ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا ”اگر ملک کو آگے لے جانا ہے تو عدل و انصاف کے تقاضے کو پورا کرنا ہوگا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنا ہوگا۔ آج ہندوستانی مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ریاست اور ادارے کہاں ہیں۔ ہم اپنے تحفظ کے سلسلے میں کس سے فریاد کریں؟“

امام بخاری نے الزام لگایا کہ آج ملک کے طول و عرض میں ہجومی تشدد کے باعث خوف و ہراس کا جو ماحول پنپ رہا ہے اور اس سے مسلم اور دلت نوجوانوں کی بے چینی میں جو متواتر اضافہ ہو رہا ہے وہ ملک کے مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و تشدد، سماجی ناہمواریاں، مذہبی منافرت، دہشت گردی اور بر وقت انصاف نہ ملنا ملک کے لیے اچھی بات نہیں۔