تلنگانہ: چکن کی قیمتیں سونا چاندی کی طرح میں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں

سردیوں کے موسم میں مرغیوں کے فارموں میں انڈوں کی پیداوار قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے جس سے طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تلنگانہ میں چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ نے عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے پروٹین سے بھرپور یہ غذا اب دسترخوان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ریاست میں چکن کی قیمتیں سونا چاندی کی طرح تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔

گوشت خوروں کے لئے چکن اپنی آسانی اور دستیابی کی وجہ سے پسندیدہ غذا رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس کی قیمتوں نے متوسط طبقہ کو پریشان کر دیا ہے۔ پچھلے سال دسہرہ کے موقع پر جو چکن 220 روپے فی کلو تھا، اب وہ 300 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبزیوں کے بعد اب گوشت کی قیمتوں نے بھی عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔


پولٹری فارم مالکان اور تاجروں کے مطابق اس اضافہ کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں۔ سردیوں کے موسم میں مرغیوں کے فارموں میں انڈوں کی پیداوار قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے جس سے طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔میڈارم سمکا۔سارلماجاترا اور رمضان جیسے بڑے تہواروں کی آمد کی وجہ سے چکن کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

مرغیوں کی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ نے فارم مالکان کی لاگت میں اضافہ کردیا ہے۔چوزوں کی قیمت، جو پہلے 15 سے 30 روپے تھی، اب بڑھ کر 60 روپے ہو گئی ہے۔ صرف گوشت ہی نہیں بلکہ غریبوں کے لئے پروٹین کا سب سے سستا ذریعہ انڈابھی اب مہنگا ہو گیا ہے۔ ریٹیل مارکٹ میں جو انڈا 5 روپے کا تھا، اب 8 سے 9 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ 30 انڈوں کی ٹرے کی قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 240 روپے ہوگئی ہے۔قیمتوں میں اس قدر اضافہ کی وجہ سے عام مزدوروں نے انڈوں کی خریداری کم کر دی ہے اور وہ متبادل غذا کی تلاش میں ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔