’ہماری معیشت متاثر کن شرح سے ترقی پذیر ہوگی‘ : صدر جمہوریہ

بدقسمتی سے کچھ ناکامیوں کا سامنا بھی ہوا ہے کیونکہ یہ وائرس نئے تغیرات کےساتھ واپسی کرتا ہے۔ بے شمارخاندان ایک مشکل وقت سے دوچار ہوچکے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

73ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر تمام لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا ’’یہ جشن منانے کا ایک موقع ہے جو ہم سب کے لئے مشترک ہے۔ یعنی ہماری ہندوستانیت‘‘۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’’اسی دن ہندوستان سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر قائم ہوا تھا اور ’ہم عوام‘ نے ایک ایسے آئین کو نافذ کیا جو ہمارے اجتماعی وژن کا ایک الہامی دستاویز ہے‘‘۔

ہندستان کاآئین 26 نومبر 1949 کو قانون ساز اسمبلی کے ذریعہ منظور اور نافذ کیا گیا تھا جسے اب ہم ’یوم آئین‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ البتہ اسے دو ماہ بعد نافذ کیا گیا تھا۔ یہ 1930 میں اس دن کے موقع پر کیا گیا تھا جب ہندوستان نے مکمل آزادی حاصل کرنے کا عزم کیا تھا۔ 1930 سے 1947 تک، ہر سال 26 جنوری کو ’پورن سوراج ڈے‘ کےطور پر منایا جاتا تھا اور یہ وہی دن تھا جس کا انتخاب آئین کا نفاذ کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔


بابائے قوم مہاتما گاندھی کو یاد کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے بتایا کہ انہوں نے ہمیں ’پورن سوراج ڈے‘ کو کیسے منانے کے لئے کہا تھا ’’یاد رکھیئے کیونکہ ہم اپنی منزلعدم تشدد اور سچے طور طریقوں سے حاصل کرنا چاہتےہیں، تو ایسا ہم صرف تزکیہ نفس کے ذریعہ ہی کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اس دن کو ایسے تعمیری کام کرنے کے لئے وقف کرنا چاہئےجو کہ ہمارے اختیار میں ہے‘‘۔

اپنے خطاب میں صدر جمہوریہ نے وبا اور ہندوستان کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدام کے تعلق سے کہا ’’وبائی امراض کے متعلق انتظام ،ہندوستان میں سب سے زیادہ مشکل رہا۔ ہمارے یہاں آبادی کی بڑی تعداد ہے اور ایک ترقی پذیر معیشت کے طور پر ہمارے پاس اس نادیدہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے ضروری درکار وسائل اور بنیادی ڈھانچے کے پورے وسائل نہیں تھے لیکن یہ ایسے مشکل وقت میں ہی ہوتا ہے جب کسی قوم کی لچک چمک مارتی ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت فخر ہے کہ ہم نے کورونا وائرس کے خلاف بے مثال عزم کا مظاہرہ کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’بدقسمتی سے کچھ ناکامیوں کا سامنا بھی ہوا ہے کیونکہ یہ وائرس نئے تغیرات کےساتھ واپسی کرتا ہے۔ بے شمارخاندان ایک مشکل وقت سے دوچار ہوچکے ہیں۔ ہمارے اجتماعی صدمے کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں ۔ سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ بہت سے جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ چونکہ یہ وبائی بیماری ابھی بھی پھیلی ہوئی اس لئے ہمیں چوکنا رہنا چاہئے اور اپنی حفاظت میں کوئی کمی ہونے نہیں دینی چاہئے۔ جو احتیاطی تدابیر ہم نے اب تک اختیار کی ہیں انہیں جاری رکھنا ہوگا‘‘۔


صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں معیشت کا بھی ذکر کیا’’مصیبت کی اس گھڑی میں ہندوستان کے جذبے کا یہ جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ گزشتہ برس سخت دور سے گذرنے کے بعد اس مالی برس میں ہماری معیشت متاثر کن شرح سے ترقی پذیر ہوگی‘‘۔

اپنے خطاب میں صدر جمہوریہ نے کہا ’’حب الوطنی شہریوں میں فرض کے احساس کو مستحکم کرتی ہے۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہوں یا وکیل ،دکاندار ہو ں یا دفتری ملازم ،صفائی ستھرائی کے ملازم ہوں یا مزدور، اپنی ڈیوٹی کو بخوبی اور احسن طریقے سے انجام دینا ہی آپ کا قوم کے لئے سب سے اول اور اہم ترین حصہ رسدی ہے‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔