معاشی طور سے کمزور لوگوں کےریزرویشن قانون پر صدر کی مہر

صدر رام ناتھ كووند نے عام زمرے کے معاشی طورسے کمزور خاندانوں کو 10 فیصد ریزرویشن کے لئے پارلیمنٹ سے منظور 103 ویں آئینی ترمیم قانون کو منظوری دے دی۔

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: صدر رام ناتھ كووند نے عام زمرے کے معاشی طورسے کمزور خاندانوں کو 10 فیصد ریزرویشن کے لئے پارلیمنٹ سے منظور 103 ویں آئینی ترمیم قانون کو آج منظوری دے دی۔

حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ اس قانون کے ذریعے عام زمرے کے معاشی طور پر کمزور لوگوں کو سرکاری نوکریوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ریزرویشن کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ ریزرویشن موجودہ ریزرویشن کے علاوہ ہوگا۔

اس آئینی ترمیمی بل کے ذریعے حکومت کو 'معاشی طور سے کمزور کسی بھی شہری "کو ریزرویشن دینے کا حق مل گیا۔ ' معاشی طور پر کمزور طبقے' کی تعریف مقرر کرنے کا اختیار حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے جو نوٹیفکیشن کے ذریعہ وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلی کرسکتی ہے ۔

اس قانون کے ذریعے سرکاری کے علاوہ پرائیویٹ اعلی تعلیمی اداروں میں بھی معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کا بندوبست کا اطلاق ہو گا، چاہے وہ سرکاری امدادیافتہ ہوں یا نہ ہوں ۔ تاہم، آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت قائم اقلیتی تعلیمی اداروں میں یہ ریزرویشن لاگو نہیں ہو گا۔ساتھ ہی ملازمتوں میں صرف ابتدائی تقرری میں ہی عام زمرے کے لئے ریزرویشن ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سات جنوری کو کابینہ نے اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران لو ک سبھا میں 124 ویں آئینی ترمیمی بل 2019 کے طور پر اسے آخری دن 8 نوری کو جلدبازی میں پیش کیا گیا تھا۔