صدر جمہوریہ نے کی عدلیہ میں خواتین کی شراکت میں اضافہ کی وکالت، کہا ’خواتین میں انصاف کی سمجھ زیادہ‘

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ عدلیہ میں ابھی تک 12 فیصدی سے بھی کم خواتین کی تعداد ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے، سب کو انصاف ملے اس کے لئے کام کرنا ہوگا۔

رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
رام ناتھ کووند، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پریاگ راج: صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے عدلیہ میں خواتین کی شراکت میں اضافہ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں انصاف کی سمجھ زیادہ ہوتی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں ملٹی لیول پارکنگ، وکلاء چیمبر کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ جھلوا میں تعمیر کی جانے والی لاء یونیورسٹی کے افتتاحی پروگرام کے موقع پر رام ناتھ کووند نے ہفتہ کو کہا کہ عدلیہ میں خواتین کی شراکت میں اضافہ ہو کیونکہ خواتین میں سب کو انصاف دینے کا مزاج سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایک خاتون سسرال، مائیکہ، شوہر اور اولاد میں ہم آہنگی کو استوار کرتی ہے۔

صدر جمہوریہ کووند نے کہا کہ عدلیہ میں ابھی تک 12 فیصدی سے بھی کم خواتین کی تعداد ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو انصاف ملے اس کے لئے کام کرنا ہوگا۔ عام لوگوں میں عدلیہ کے تئیں اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں تین خواتین ججوں کی تقرری ہوئی ہے جو کہ تاریخی اور استقبال کے قابل ہے۔


صدر جمہوریہ نے کہا کہ انصاف کے عمل میں تاخیر غریب کے لئے پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ ساتھ ہی اس کی غریبی کو اور بڑھاتا ہے۔ سبھی کو وقت سے انصاف ملے، عدالتی نظام کم خرچ والا ہو۔ عام شہریوں کی زبان میں فیصلے دینے کا نظم ہو اور خاص کر خواتین اور کمزور طبقات کو انصاف ملے اور سبھی کی سمجھ والا عدالتی نظام ہونا چاہئے۔ خواتین کمزور طبقات کو انصاف آسانی سے ملے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ صحیح معنوں میں انصاف پر مبنی سماج کا قیام تبھی ممکن ہے جب دیگر طبقات سمیت عدلیہ میں بھی خواتین کی شراکت داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 'ایک وکیل کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر نوجوان اور عام کنبوں کے وکلاء ان کے معاون بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے متعدد قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہی۔ اس ضمن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ بنیادی سہولیات کے لئے تعمیراتی کام سے وکلاء اور ان کے معاونین کے ساتھ ساتھ سبھی عرضی گذاروں کے لئے کافی نفع بخش ثابت ہوگا۔

صدر جمہوریہ کووند نے کہا کہ انصاف پانے کے لئے غریب طبقات کے جدوجہد کو میں نے نزدیک سے دیکھا ہے۔ عدلیہ سے سبھی کو توقعات تو ہوتی ہیں پھر بھی عام لوگ عدالت سے مدد لینے میں ہچکچاتے ہیں۔ عدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کو مزید بڑھانے کے لئے اس حالت کو بدلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریاگ راج تعلیم کا مرکز ہے۔ لاء یونیورسٹی کی تعمیر کے بعد یہاں سے پڑھائی کرکے نئی نسل متاثرین کو انصاف دلانے میں تعاون پیش کرے گی۔ یہ کام انصاف دینے کے نظام کے فروغ کی سمت میں قابل ستائش کوشش ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ تعلیم اور عدالتی نظام میں پختہ اصلاحات کے لئے عدلیہ اور مرکز و ریاستی حکومت کی لگاتار کوششوں کی وجہ سے، مقننہ، ایگزیکٹیو کی جانب سے شراکت داری کرنے والے سبھی لوگ تعریف کے قابل ہیں۔


صدرجمہوریہ نے کہا کہ 1925 میں ملک کی پہلی خاتون وکیل کارنیلیا سوراب جی کا اندراج کرانے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا تھا۔ وہ خاتون بااختیاری کی سمت میں الہ آباد ہائی کورٹ کا مستقبل روشن کرنے کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہی کے دن 128سال پہلے شکاگو میں سوامی وویکا نند نے عالمی مذہبی اجلاس میں اپنے تاریخی خطاب کے ذریعہ ہندوستان کے افتخار کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل صدر جمہوریہ نے الہ آباد میں 24ویں لاء یونیورسٹی کے ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ میں تقریباً 600 کروڑ روپئے کے اخراجات سے تعمیر ہونے والے وکلاء کے چیمبر اور پارکنگ کے لئے بننے والی ملٹی اسٹوری بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر گورنر آنندی بین پٹیل نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں عمارت کا سنگ بنیاد بہتر قدم ہے اس سے عوام الناس کو انصاف ملنے میں تاخیر نہیں ہوگی یہ عمارت جدید سہولیات سے لیس ہوگی۔ وہیں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ پریاگ راج میں ان پروجکٹوں کا سنگ بنیاد ہوا ہے جس کا سالوں سے پریاگ راج و اترپردیش کے لوگ تمنا کر رہے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ پارکنگ اور لاء یونیورسٹی کا سالوں سے مطالبہ تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔