’کورونا جنگجوؤں‘ پر حملہ کرنے والوں کی اب خیر نہیں، صدر جمہوریہ نے آرڈیننس پر لگائی مہر

آرڈیننس میں 30 دن کے اندر اندر چانچ اور ایک سال کے اندر اندر سماعت مکمل کرنے کا التزام ہے۔ ڈاکٹر، نرس، پیرا میڈیکل عملے سمیت تمام صحت اہلکار کو یہ قانون تحفظ فراہم کرائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا وائرس کووڈ۔19' کی وبا سے لڑنے میں فرشتوں کا کردار ادا کر نے والے صحت اہلکاروں پر حملوں کے لئے سخت سزا کا التزام والے آرڈیننس کو آج صدر رام ناتھ کووند کی منظوری مل گئی اور اس کے ساتھ ہی یہ قانون پورے ملک میں نافذ ہو گیا۔ حکومت نے اس آرڈیننس کے ذریعے وبائی ایکٹ، 1897 میں ترمیم کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی بدھ کی صبح ہوئی میٹنگ میں اس کو منظوری دی گئی تھی۔ رام ناتھ کووند نے دیر رات وبا (ترمیمی) آرڈیننس، 2020 پر دستخط کردیئے۔


اس آرڈیننس میں التزام ہے کہ صحت کے اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا اور پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ کسی صحت اہلکاروں کی گاڑی یا کلینک وغیرہ کو نقصان پہنچانے والے کو اس جائیداد کی مارکیٹ قیمت سے دگنی رقم ہرجانے کے طور پر دینی ہوگی۔ اس میں 30 دن کے اندر اندر چانچ اور ایک سال کے اندر اندر سماعت مکمل کرنے کا التزام ہے۔ ڈاکٹر، نرس، پیرا میڈیکل عملے سمیت تمام صحت اہلکار کو یہ قانون تحفظ فراہم کرائے گا۔


قابل ذکر یہ ہے کہ اس سے پہلے مرکزی کابینہ نے صحت اہلکاروں پر لگاتار ہو رہے حملوں کو دیکھتے ہوئے ان کے تحفظ کو لے کر آرڈیننس لائے تھے۔ اس آرڈیننس کے مطابق صحت اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حملے کے ملزمین پر 50 ہزار روپے سے لے کر 5 لاکھ روپے تک کے جرمانے کا بھی انتظام کیا گیا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔