یومِ آزاد سے قبل شام صدر کووند کا قوم کے نام خطاب: ’کورونا کا سب سے زیادہ اثر غریبوں پر، مرکز نے کئی قدم اٹھائے‘

کووند نے 74 ویں یوم آزادی سے قبل شام ’قوم کے نام خطاب‘ میں کہا کہ کورونا کا غریبوں اور یومیہ روزی روٹی کمانے والوں پر سب سے زیادہ اثر ہوا ہے

تصویر ٹوئٹر @rashtrapatibhvn
تصویر ٹوئٹر @rashtrapatibhvn
user

یو این آئی

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے ملک میں کورونا وبا کے خطرے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر غریبوں پر ہوا ہے اور حکومت نے اس کے اثر سے نجات دلانے کے لئے کئی فلاحی قدامات کئے ہیں جس کی وجہ سے درہم برہم زندگی کی پریشانیاں کم ہوئی ہیں۔

کووند نے 74 ویں یوم آزادی سے قبل شام ’ قوم کے نام خطاب‘میں کہا کہ کورونا کا غریبوں اور یومیہ روزی روٹی کمانے والوں پر سب سے زیادہ اثر ہوا ہے۔ بحران کے اس دور میں انہیں مدد دینے کے لئے وائرس کی روک تھام کی کوششوں کے ساتھ ساتھ کئی فلاحی اقدامات کئے گئے ہیں۔’ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا ‘کی شروعات کرکے حکومت نے کروڑوں لوگوں کو روزی روٹی دی ہے تاکہ وبا کی وجہ سے نوکری گنوانے ، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے کی زندگی کی تکلیفوں کو کم کیاہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ کسی بھی کنبے کو بھوکا نہ رہنا پڑے اس کے لئے ضرورت مند افراد کو مفت اناج دیا جارہا ہے۔مفت اناج مہیا کرانے ، دنیا کی سب سے بڑی اس مہم کو اس سال نومبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس مہم سے ہر مہینے تقریبا 80 کروڑ لوگوں کو راشن ملنا یقینی کیا گیا ہے۔ راشن کارڈ ہولڈر پورے ملک میں کہیں بھی راشن لے سکیں اس کے لئے سبھی ریاستوں کو ’ ون نیشن کارڈ‘ اسکیم کے تحت لایا جارہا ہے۔

کووند نے کہا کہ بحران کے اس وقت میں دنیا میں کہیں پر بھی مصیبت میں پھنسے ہندوستانیوں کی مدد کرنے کے عزم، سرکار کے ذریعہ ’ وندے بھارت مشن ‘ کے تحت دس لاکھ سے زائد لوگوں کو ملک واپس لایا گیا ہے۔ ہندوستانی ریلوے کے ذریعہ اس چیلنجنگ وقت میں ٹرین سروسز چلاکر اشیا اور لوگوں کی آمدورفت کو ممکن بنایا گیا ہے۔دیگر ممالک کے مطالبے پر دواؤیں فراہم کرکے ہم نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان بحران کے وقت میں بھی دنیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

صدر نے کہا کہ ہندوستان کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں کے لوگ صرف اپنے لئے نہیں جیتے ہیں بلکہ پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے جذبے کے ساتھ کام بھی کرتے ہیں۔ ہندوستان کا خود کفیل کا مطلب خود اہلیت ہونا ہے ، دنیا سے علیحدگی یا دوری بنانا نہیں ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انڈیا گلوبل مارکیٹ سسٹم میں شامل بھی رہے گا اور اپنی خصوصی شناخت بھی قائم رکھے گا۔

صدر نے کورونا کے خلاف جنگ میں زندگی اور ذریعہ معاش دونوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا’’ میرا ماننا ہے کہ کووڈ ۔19 کے خلاف جنگ میں زندگی اور ذریعہ معاش دونوں کی حفاظت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے‘‘۔ ہم نے موجودہ بحران کو سب کے مفاد میں، خصوصی طور پر کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے مفاد میں مناسب اصلاحات لاکر معیشت کودوبارہ رفتار دینے کے موقع کےطور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں۔ اب کسان اپنی پیداوار کو بغیر کسی رکاوٹ کے ملک میں کہیں بھی فروخت کرکے اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرسکتے ہیں۔ کسانوں کو ریگولیٹری پابندیوں سے آزاد کرنے کے لئے ’ضروری اشیا ایکٹ‘ میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس سے کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا ’’ایک غیر مرئی وائرس (کورونا) نے اس تصور کو ختم کر دیا ہے کہ فطرت انسانوں کے تابع ہے‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پر مبنی طرز زندگی اختیار کرنے کا موقع انسانیت سے پہلے بھی موجود ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی طرح اس وبا نے یہ شعور بھی پیدا کیا ہے کہ عالمی برادری کے ہر فرد کی تقدیر ایک دوسرے سے وابستہ ہے‘‘۔

کووند نے مزید کہا ’’میرا عقیدہ ہے کہ موجودہ تناظر میں ’مالی مزکیت پرمبنی شمولیت‘ کے بجائے’انسانیت پر مبنی تعاون‘ زیادہ اہم ہے‘‘۔ یہ تبدیلی جتنی زیادہ جامع ہوگی، انسانیت کا اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ اکیسویں صدی کو اس صدی کے طور پر یاد رکھنا چاہئے جب انسانیت نے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے مادر وطن کی حفاظت کے لئے متحدہ کوششیں کیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ فطرت کی نظر میں ہم سب برابر ہیں اور اپنی زندگی کی حفاظت اور ترقی کے لئے بنیادی طور پر اپنے آس پاس کے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کورونا وائرس انسانی معاشرے کے ذریعہ کی گئی مصنوعی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ اس سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ ہمیں انسانوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے ہر طرح کے تعصب اور حدود سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے‘‘۔

صدر نے صحت کی دیکھ بھال کو مزید بہتر بنانے کو تیسرا سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں اور لیبارٹریوں نے کووڈ 19 کا سامنا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ صحت عامہ کی خدمات کے سبب غریبوں کے لئے اس وبا کا سامنا کرنا ممکن ہو پایا ہے۔ لہذا صحت عامہ کی ان سہولیات کو مزید وسیع اور مستحکم بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’چوتھا سبق سائنس اور ٹکنالوجی سے متعلق ہے۔ اس عالمی وبا کی وجہ سے سائنس اور ٹکنالوجی کو تیزی سے ترقی دینے کی ضرورت پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن اور اس کے بعد انلاک کے عمل کے دوران حکومت، تعلیم، کاروبار، دفتر کے کام کاج اور سماجی رابطے کے موثر ذریعہ کے طور پر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹکنالوجی کو اپنایا گیا ہے۔ اس ذریعہ کی مدد سے سبھی ہندوستانی کی زندگی بچانے اور کام کاج کو دوبارہ شروع کرنے کے مقاصد کو ایک ساتھ حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔

کووند نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے دفاتر اپنے کاموں کو نمٹانے کے لئے بڑے پیمانے پر ورچوئل انٹرفیس کا استعمال کررہے ہیں۔ عدلیہ نے انصاف فراہم کرنے کے لئے ورچوئل سماعتیں کیں۔ ورچوئل کانفرنسوں کے انعقاد اور بہت سی دوسری سرگرمیاں انجام دینے کے لئے راشٹرپتی بھون میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ آئی ٹی اور مواصلاتی آلات کی مدد سے فاصلاتی تعلیم اور ای لرننگ کو فروغ ملا ہے۔

کورونا کی وجہ سے گھر سے کام کرنے کے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں گھر سے کام کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے۔ ٹکنالوجی کی مدد سے سرکاری اور نجی شعبے کے بہت سے اداروں نے معمول سے زیادہ کام کرکے معیشت کو رفتار دی ہے۔ انہوں نے کہا ’’اس طرح ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہوئے سائنس اور ٹکنالوجی کو اختیار کرنے سے ہمارے وجود اور ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی‘‘۔

    Published: 14 Aug 2020, 8:18 PM
    next