جیو کا جلوہ برقرار، محض چار سال میں بنائے 400 کروڑ صارفین

صرف چار سال قبل موبائل شعبے میں قدم رکھنے والی جیو اس شعبے کی بڑی کمپنیوں بھارتی ایرٹیل اور ووڈا آئیڈیا کو مات دے کر پہلے مقام پر ہے اور اب اس کا اگلا ہدف 2024 تک اپنے صارفین کی تعداد 50 کروڑ کرنا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی کے 2024 تک پچاس کروڑ صارفین کے ہدف کی سمت میں ایک قدم بڑھاتے ہوئے2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں عالمی وباکووڈ 19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باوجود جیو ایک کروڑ صارفین جوڑ کر 40 کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے ۔ اپریل جون سہ ماہی کے دوران خالص 99 لاکھ نئے صارفین جوڑے اور مجموعی صارفین 39 کروڑ 83 لاکھ تک پہنچ گئے۔

صرف چار سال قبل موبائل شعبے میں قدم رکھنے والی جیو اس شعبے کی بڑی کمپنیوں بھارتی ایرٹیل اور ووڈا آئیڈیا کو مات دے کر پہلے مقام پر ہے اور اب اس کا اگلا ہدف 2024 تک اپنے صارفین کی تعداد 50 کروڑ کرنا ہے۔ جیو کا تخمینہ لگا یا جائے تو اس نے اوسطا یومیہ 30 لاکھ صارفین کو جوڑ کر چار سال سے کم عرصے میں 40 کروڑ صارفین اپنے ساتھ جوڑے ۔ مسٹر امبانی نے کمپنی کی اس کامیابی پر کہا ’’ ہندوستانی اسٹارٹ اپس اور دنیا کی معروف ٹکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکتداری کر کے جیو پلیٹ فارم اب ڈیجیٹل کاروبار کی اگلی ہائپر گروتھ کیلئے تیار ہے۔ ہماری ترقی کی حکمت عملی تمام 130 کروڑ ہندوستانیوں کی ضروریات کو پور ا کرنے سے بنی ہے ۔ ہماری ساری توجہ ہندوستان کو ڈیجیٹل معاشرے میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے‘‘۔


مکیش امبانی نے 15 جولائی کو ریلائنس کی 43 ویں عام میٹنگ میں اعلان کیا ہے کہ کمپنی ہندوستانی مارکیٹ میں سستے اسمارٹ فون لائے گی اور اس کا مقصد 35 کروڑ جیو صارفین کو 4 جی اور 5 جی خدمات کے تحت لانا ہے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ اگلے سال ملک میں 5 جی خدمات شروع کرنے کا ہے اور اس کے لئے تمام تر تیاریاں تقریبا مکمل ہوچکی ہیں اور حکومت کی ہری جھنڈی کا انتظار ہے۔

جہاں سستی اور بہتر خدمات دستیاب کرانے کے لئےسخت مسابقت کے دوران دیگر کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ، ریلائنس جیو کے منافع میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعرات کو مالی برس 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں ریلائنس جیو کا خالص منافع اسی عرصے کے 891 کروڑ روپے کے مقا بلے میں 182.8 فیصد اضافے سے بڑی چھلانگ لگا کر 2،520 کروڑ روپے پہنچ گیا۔ یہی نہیں جیو کے منافع میں مسلسل گیارہویں سہ ماہی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی اہم وجہ نئے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور قرض سے نجات کے بعد مالیات لاگت کم ہونا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چند ماہ پہلے تک نمبر ایک پر رہی بھارتی ائرٹیل کو اس دوران 15933 کروڑ کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔


جیو کی زیرجائزہ سہ ماہی میں آپریٹنگ آمدنی 12383 کروڑ روپے سے 33.7 فیصد بڑھ کر 16557 کروڑ روپے ہوگئی۔ اس عرصے کے دوران جیو کا سود ٹیکس کی ادائیگی اور قرض کی ادائیگی کے اخراجات 7،281 کروڑ کی ریکارڈ سطح پر پہنچے ، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 55.4 فیصد زائد ہیں ۔ مضبوط کسٹمر سروسز اور بہترین نیٹ ورک کی وجہ سے سہ ماہی میں مجموعی وائرلیس ڈیٹا ٹریفک 30.2 فیصد یعنی 1،420 کروڑ جی بی ہوگیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران جیو نیٹ ورک پر ہر ماہ اوسط وائرلیس ڈیٹا کی کھپت بڑ کر 12.1 جی بی اور وائس کالنگ 756 منٹ ہو گئی ۔

سہ ماہی میں فی صارف اوسط آمدنی (اے آر پی یو) 130.6 روپے سے بڑھ کر ماہانہ 140.3 روپے ہوگئی۔ سہ ماہی کے دوران فیس بک اور گوگل سمیت 13 سرمایہ کاروں نے 14 تجاویز کے ذریعے جیو پلیٹ فارم میں 1 لاکھ 52 ہزار 56 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ کل سرمایہ کاری میں سے جیو کو دس سرمایہ کاروں سے 115694 کروڑ روپئے موصول ہو ئے۔ جیو پلیٹ فارم میں آئی سرمایہ کاری میں کمپنی 22981 کروڑ روپے مستقبل میں توسیع کے لئے رکھے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Jul 2020, 1:46 PM