صارفین کو بیدار کرنے کی مہم چلانے کی تیاری

کانگریس کے کے سی رام لنگم نے ایوان میں صارفین تحفظ بل 2019 پر بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گاہکوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور انہیں صارفین حقوق کے سلسلے میں بیدار کیا جانا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: برسراقتدار اور اپوزیشن نے ملک میں گاہکوں کو بیدار کرنے پر زور دیتے ہوئے آج راجیہ سبھا میں کہا کہ صارفین کے تنازعہ نمٹانے کے لئے طریقہ کار کو مضبوط کیا جانا چاہیے اور اس کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار ہونا چاہیے۔

کانگریس کے کے سی رام لنگم نے ایوان میں صارفین تحفظ بل 2019 پر بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گاہکوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور انہیں صارفین حقوق کے سلسلے میں بیدار کیا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے خوراک کی فراہمی اور صارفین امور کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بل پیش کیا اور کہا کہ ملک کے بازار میں بہت تبدیلی آگئی ہے۔ صارفین کا برتاؤ بھی بدل رہا ہے۔ گزشتہ قانون بدلتے ہوئے حالات کے موافق نہیں ہے۔ اس لئے نیا قانون بنانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

رام لنگم نے کہا کہ بازار میں صارفین اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے حقوق اور مفادات میں تال میل بنانے کی ضرورت ہے۔ کھانے کی اشیاء میں کیڑے مار دوائی کی ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ اسے روکنے کے لئے سختی سے قدم اٹھائے جانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو گمراہ کن اشتہارات نشر کرنے والے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کے التزام کرنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ای کامرس کا بازار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ صارفین بھی ای کامرس پر جارہے ہیں لیکن اس بل میں ای کامرس صارفین کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ بل میں اس کا بھی التزام ہونا چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے وجے گوئل نے کہا کہ اس بل سے حکومت صارفین کو اور زیادہ حقوق دے رہی ہے۔گزشتہ 30برسوں میں ہندوستان بازار میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور موجودہ قانون اس کےلئے نامناسب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے اور اس میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔متوسط طبقے کی آنکھوں میں خواب ہیں جنہیں پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ صارفین کو بیدار کرنے کی مہم سے انہیں ان کے حقوق کی معلومات دی جاسکے گی۔اس مہم پر ہر فی سال 62 کروڑ روپے خرچ کئےجاتےہیں۔اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صارفین عدالتوں میں معاملے کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔انہیں نمٹانے کےلئے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جانا چاہئے۔حکومت کو اونچی قیمتوں پر روک لگانی چاہئے۔

ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ اس بل کے ذریعہ ریاستوں کے حقوق تجاوز نہیں کئے جانے چاہئے۔صارفین پلیٹ فارم میں خواتین کو بھی جگہ دی جانی چاہئے۔متعلقہ عمل میں ریاستوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔اے آئی اے ڈی ایم کے کے آر ویدھلنگم نے کہا کہ صارفین کو معیار کا حق حاصل ہے۔حکومت کو ان کے حقوق کی حفاظت کےلئے التزام کرنے چاہئے۔

سماجوادی پارٹی کے روی پرکاش ورما نے کہا کہ جیسے جیسے بازار کی توسیع ہورہی ہے ویسے ویسے صارفین کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔صارفین کے برتاؤ کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہئے جس سے کم از کم مسائل پیدا ہوں۔کمپنیاں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتی ہیں جس کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوتا ہے۔