دہلی میں بین الاقوامی سطح کا تفریحی زون بنانے کی تیاری، راج گھاٹ پاور پلانٹ کو بحال کرنے کی تجویز

قومی راجدھانی میں ایک دہائی سے بند پڑا راج گھاٹ تھرمل پاور پلانٹ اب دہلی کا سب سے بڑا تفریحی اور ثقافتی مرکز بننے جارہا ہے۔ حکومت اسے نیویارک اور لندن کی طرز پر نائٹ لائف ہب بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجدھانی کے بند پڑے راج گھاٹ تھرمل پاور پلانٹ کے میگا ری ڈیولپمنٹ کی تیاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تقریباً 28 ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ پاور پلانٹ پچھلی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بند پڑاہے، جسے اب دہلی حکومت کے محکمہ توانائی نے جدید نائٹ لائف، ثقافتی اور تفریحی مرکز کے طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے حکومت نے نیویارک کے ہائی لائن پارک اور لندن کے بیٹرسی پاور اسٹیشن جیسے بین الاقوامی ماڈلز کا مطالعہ کیا ہے۔

مجوزہ پلان کے تحت یہاں کیفے، لائیو کنسرٹ، صوفی نائٹس اوراوپن ایئر( کھلی فضا میں) فارمنس کی جگہ بنائی جائیں گی۔ اس کا مقصد دہلی میں رات کے وقت تفریحی اختیارات کو بڑھانا اور سیاحت کے ذریعے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنا ہے۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر ماحول دوست ہو گا، جس میں یمنا کے کنارے چہل قدمی کی جگہ اور شمسی توانائی سے چلنے والی پیڈل بوٹس جیسی سہولیات شامل ہوں گی۔ فی الحال یہ تجویز منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر زمینی سطح پر کام شروع کرنے کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کی جائے گی۔


اس ری ڈیولپمنٹ کے لیے محکمہ توانائی نے دنیا بھر کی کامیاب مثالوں کو بنیاد بنایا ہے۔ اس میں جرمنی کی زولورین کول مائن اور کینیڈا کا ٹورنٹو ڈسٹلری ڈسٹرکٹ بھی شامل ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ دہلی میں شام کے تفریحی اختیارات صرف مالز اور فلموں تک محدود ہیں۔ اس پلانٹ کی دوبارہ ترقی سے لوگوں کو مالز سے آگے ایک نیا اور متحرک ثقافتی تجربہ ملے گا جہاں لوگ رات گئے تک آرٹ اور موسیقی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

پروجیکٹ میں پائیدار ترقی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق دریائے یمنا کے کنارے ایک خوبصورت پرومنیڈ تیار کیا جائے گا، جس میں شمسی توانائی سے چلنے والی ایل ای ڈی لائٹس اور ری سائیکل کئے گئے میٹیریل سے بنی بنچیں لگائی جائیں گی۔ یہاں آنے والے لوگ شمسی توانائی سے چلنے والی پیڈل بوٹس سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ متعلقہ افسران کے مطابق اس پورے تفریحی زون کا آپریشن زیرو ایمیشن ماڈل پر کیا جائے گا جس سے نہ صرف ماحولیات کی حفاظت ہوگی بلکہ ہزاروں یونٹ بجلی کی بچت بھی ہوگی۔


سینئرافسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجویز کو حتمی شکل دینے کے بعد اسے مالیاتی منظوری کے لیے کابینہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ یہ پروجیکٹ نہ صرف دہلی کی رات کی زندگی کو خوش گوار بنانے گا بلکہ حکومت کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی بنے گا۔ اس سے سیاحت کے شعبے میں دہلی کی درجہ بندی میں بہتری ہونے اور ہزاروں سیاحوں کو راغب کرنے کی امید ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔