کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کی تیاری، بی جے پی نے نام بدلنے کی حمایت کرتے ہوئے پی ایم مودی کو لکھا خط
کیرالہ بی جے پی صدر راجیو چندرشیکھر نے کہا کہ بی جے پی کا نظریہ لسانی ثقافت اور روایات کی حفاظت و احترام پر مبنی ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ ریاست کو ’کیرلم‘ کی شکل میں دیکھا ہے۔

کیرالہ کی ایل ڈی ایف حکومت کے ذریعہ ریاست کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کی حمایت کیرالہ بی جے پی نے بھی کر دی ہے۔ ریاست کا نام بدلنے کی سمت میں جاری تیاریوں کے درمیان یہ قدم اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ کیرالہ بی جے پی نے تو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھی لکھا ہے جس میں مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندرشیکھر نے پی ایم مودی اور وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو خط لکھ کر ریاست کا نام تبدیل کیے جانے سے متعلق پارٹی کا رخ بھی واضح کیا ہے۔
ریاستی صدر راجیو چندرشیکھر کا کہنا ہے کہ کیرالہ کا نام کیرلم کرنے سے ان شدت پسند طاقتوں کی کوششوں پر لگام لگے گی جو مذہب کی بنیاد پر ریاست کو الگ الگ اضلاع میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پی ایم مودی کو لکھے خط میں انھوں نے خاص طور سے یہ جانکاری دی ہے کہ ریاستی اسمبلی نے سرکاری دستاویزات میں ریاست کا نام ’کیرالہ‘ سے بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کا بل پاس کر دیا ہے۔
راجیو چندرشیکھر نے اپنے خط میں بتایا ہے کہ بی جے پی کا نظریہ لسانی ثقافت اور روایات کی حفاظت و احترام پر مبنی ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ ریاست کو ’کیرلم‘ کی شکل میں دیکھا ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ ریاست کو ’کیرلم‘ کی شکل میں دیکھا ہے، جو ہزاروں سالوں کی روایت، وراثت اور ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ انھوں نے اپنے خط کے ذریعہ پی ایم مودی سے کہا کہ ’’ہم گزارش کرتے ہیں کہ آپ مداخلت کریں، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ ہماری ریاست کا نام ملیالم بنیاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’کیرلم‘ رکھا جائے۔‘‘ کچھ اسی طرح کی باتیں راجیو چندرشیکھر نے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو لکھے خط میں بھی دہرائی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔