مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کی تقریب کی تیاری

قررین نے کہا کہ آج جبکہ ملک کی سالمیت اور وقار کو گہرا ٹھیس پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ایسے میں عوام کو مولانا ابوالکلام آزاد کے افکار و خیالات سے ’آج کے تناظر میں‘ روشناس کروانا بے حد ضروری ہے۔

گرافکس قومی آواز
گرافکس قومی آواز

یو این آئی

نئی دہلی: ملک میں بڑھتی فرقہ واریت، لاقانونیت اور ہجومی تشدد کے پیش نظر کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک خصوصی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ شرکاء نے موجودہ حالات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کےلیے بڑا خطرہ قرار دیا۔

قررین نے کہا کہ گذشتہ کئ سالوں سے ملک میں جوواقعات رونما ہورہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت، سیکولرزم اور آئین کو ایک منصوبہ بند طریقے سے نظر انداز کیا جارہا ہے جس سے ملک کی سالمیت اور وقار کو گہرا ٹھیس پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ایسے میں عوام کو مولانا ابوالکلام آزاد کے افکار و خیالات سے ’آج کے تناظر میں‘ روشناس کروانا بے حد ضروری ہے۔ اسی مقصد سے مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش 11،نومبر2019 کو (131واں) یوم پیدائش تزک و احتشام کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ دوروزہ جلسے میں ملک کی مقتدر ہستیوں کو مدعوا کیا جائے گا۔ جلد ہی ایک مجلس استقبالیہ بھی قائم کی جائےگی۔

میٹنگ میں دیگر افراد کے علاوہ بہار کے سابق وزیر ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری،آل انڈیا مسلم کانفرنس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداللہ مدنی،حج کمیٹی کےسابق چیئرمین حاجی سمیع سلمانی، ایس سی۔ ایس ٹی کمیشن کے سابق رکن ڈاکٹر تاج الدین انصاری، جمعیت منصوری کے صدر حاجی رفیق منصوری،جمعیت ادریسی کے صدر حاجی تشریف احمد ادریسی،اظہاراحمد خاں، وغیرہ نے شرکت کی۔

میٹنگ میں مہمان خصوصی کی حیثیت راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب شریک ہوئے میٹنگ کی صدارت کا فریضہ بہار کے سابق وزیر شمائیل نبی نےانجام دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر سید عبداللہ مدنی نے میٹنگ میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔