پریم چند نے طبقاتی جبر کے خلاف آواز بلند کی: پروفیسر آصفہ زمانی

سیمنار کے مہمان خصوصی رضوان احمد نے کہا کہ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنہوں نے گاؤں کے کسان، کھیت، مزدوروں اور ہریجنوں کی عظمت اور انسانی وقار کو سمجھا، ان کے لئے ادب کے کشادہ دروازے کھولے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش اردو اکیڈمی کی چیئر پرسن آصفہ زمانی نے پریم چند کی قلمی خصائص کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند بنیادی طورپر طبقاتی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فرد کی آزادی کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی رومانیت پر وطن پرستی کا رنگ غالب ہے جس کا اظہار ان کی ابتدائی کہانیوں سے ہوتا ہے۔

پروفیسر آصفہ زمانی ’’منشی پریم چند اور ان کی ترقی پسندی‘‘ کے موضوع پر وکیشنل انڈسٹریل ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور اترپردیش اردو اکیڈمی کے اشتراک سے منعقد سمینار کی صدارت کر رہی تھیں۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ پریم چند نے اردو زبان وادب کو اور اس کے سرمایۂ فکرکو ایک نئی جہت سے آشنا کیا انہوں نے زندگی اور کائنات کو فکرو نظر کے مروجہ زاویوں سے ہٹ کر ایک نئی سطح سے دیکھا۔ ایک ایسی بلند سطح سے جہاں سے زندگی اور انسانیت کا سمند کروٹیں لیتا اور ٹھاٹھیں مارتا نظرآتا ہے۔

سیمنار کے مہمان خصوصی سابق ڈی جی پی اترپردیش رضوان احمد نے کہا کہ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنہوں نے گاؤں کے کسان، کھیت، مزدوروں اور ہریجنوں کی عظمت اور انسانی وقار کو سمجھا۔ ان کے لئے ادب کے کشادہ دروازے کھولے۔ انہیں ہیرو بنادیا، ان کے دکھ سکھ کی کہانی سناکر اردو کے افسانوی ادب کو نئی وسعتوں اور ایک نئے احساس وجمال سے آشنا کیا۔

مہمان اعزازی ایس رضوا ن سیکریٹری اترپردیش اردو اکیڈمی نے کہا پریم چند کی تخلیقی ہنر مندی یہ ہے کہ انہوں نے حقیقت کو اس طرح پیش کیا کہ پڑھنے والا اس کے آئینے میں سماج کی تصویر بھی دیکھتا ہے اورپریم چند کی فنی عظمت کا بھی قائل ہوتا ہے۔ پریم چند جب پسماندہ طبقات کے اور دلت عوام کے مسائل کو افسانوں یا ناولوں کا موضوع بناتے ہیں تو وہ بیک وقت تاریخ اور ادب کے رشتے کا بھی جواز پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایس رضوان نے پروفیسر آصفہ زمانی کو پورٹریٹ بھی پیش کیا۔

مہمان ذی وقار آصف زماں رضوی نے کہا کہ پریم چند کے اردو ادب پربڑے احسانات ہیں، انہوں نے ادب کو زندگی کا ترجمان بنایا۔ زندگی کو شہر کے تنگ گلی کوچوں میں نہیں دیہات کے لہلاتے ہوئے کھیتوں میں جاکر دیکھا انہوں نے زبانوں کو زبان دی اوران کی بولی میں بولنے کی کوشش کی۔ پریم چند کے نزدیک آرٹ ایک کھونٹی ہے تھی حقیقت کو لٹکانے کیلئے۔ سماج کو وہ بہتر اور برتر بنانا چاہتے تھے اور عدم تعاون کی تحریک کے بعد یہ ان کی زندگی کا مشن ہوگیا تھا۔

ضیاء اللہ صدیقی ندوی اورڈاکٹر مجاہد الاسلام ڈاکٹر جان نثارجلال پوری، ڈاکٹر مسیح الدین خان، ڈاکٹر مخمور کاکوروی، ڈاکٹر ساجد غفران، مولانا سعید انور، مولانا ظل الرحمن نے بھی اپنے قیمتی مقالوں میں پریم چند کی ادبی عظمت کو سلام کیا اور ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس سے قبل سیمینار کنوینر عبدالنعیم قریشی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا استقبال گلدستہ دیکر کیا اس موقع پر مولانا قاری بدرالدین مصباحی، پرنسپل مدرسہ دارالعلوم نظامیہ کو ان کی دینی خدمات کیلئے اورنجم الحسن سینئر فوٹو جرنلسٹ روزنامہ آگ کو صحافتی خدمات کے لئے مہمانوں کے بدست اعزاز و ایوارڈ سے نوازا گیا۔