بدعنوانی کے ہر مقدمے میں ابتدائی تحقیقات لازمی نہیں: سپریم کورٹ

جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کی بنچ نے اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی روایت اور سی بی آئی مینول کے التزامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے متعلق ہر مقدمے میں ابتدائی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے لیے لازم نہیں ہے کہ وہ ہر بدعنوانی کے مقدمے میں ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ابتدائی تحقیقات کرے، وہ براہ راست مقدمہ درج کر سکتی ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی روایت اور سی بی آئی مینول کے التزامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے متعلق ہر مقدمے میں ابتدائی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی اگر ابتدائی انکوائری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ملزم اس کا مطالبہ (ابتدائی تحقیق کے لیے) کے حق کے طور پر نہیں کر سکتا۔


عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب تلنگانہ کے وزیر تعلیم آڈیمولپو سریش اور ان کی آئی آر ایس اہلیہ ٹی این وجے لکشمی کے خلاف ان کی نا معلوم ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے ایک مقدمے میں درج ایف آئی آر کے بارے میں اٹھے سوال کے معاملے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی۔ سنہ 2017 میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی جسے ہائی کورٹ نے منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔