نریندر مودی سے ناراض توگڑیا کی بھوک ہڑتال شروع

وشو ہندو پریشد کے سابق سربراہ پروین توگڑیا بھوک ہڑتال 

غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد سابق وی ایچ پی سربراہ پروین توگڑیا نے کہا کہ وہ ہندو، کسان، نوجوان اور مزدوروں کے مسائل ہمیشہ اٹھاتے رہیں گے۔

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سابق سربراہ پروین توگڑیا نے نریندر مودی کے خلاف آمنے سامنے کی لڑائی لڑنے کی شروعات کرتے ہوئے آج احمد آباد میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ انھوں نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے مودی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے مقصد سے ایسا کیا ہے۔ لیکن اس میں ان کی ذاتی ناراضگی کا عنصر بھی شامل ہے کیونکہ گزشتہ دنوں وی ایچ پی کے عہدۂ صدارت کے انتخاب میں اپنے قریبی راگھو ریڈی کو شکست خوردہ دیکھنے کے بعد وہ نہ صرف حیران ہیں بلکہ غصے میں وزیر اعظم کے خلاف بھی خوب بیان بازی کی۔

آج انھوں نے احمد آباد میں ’رام مندر‘ کے نام پر بھوک ہڑتال شروع کردی ہے اور ان کے ساتھ سینکڑوں سادھو سنت بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسٹیج پر ’ہندو ہی آگے‘ کے عنوان سے بینر لگا ہوا ہے اور میڈیا سے بات چیت کے دوران وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندو، کسان، نوجوان، خاتون اور مزدوروں کے مطالبات پر وہ ہر لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ لیکن جس ماحول میں بھوک ہڑتال شروع ہوئی ہے اس میں کسان، نوجوان، خاتون یا مزدوروں کے مسائل پر گفتگو کم اور رام مندر پر باتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ یہ پوری طرح سے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے شروع کی گئی بھوک ہڑتال ہے۔

یہ بات خود توگڑیا نے گزشتہ روز کہی تھی جب انھوں نے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کی خبر میڈیا کو دی تھی۔ انھوں نے مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’آپ کے پاس جو اقتدار ہے وہ ہندوؤں کی لاشوں سے ملا ہے۔ کیا آپ بھول گئے پولس کی گولی سے 300 ہندوؤں کو مروایا تھا؟‘‘

اپنی زہر افشانی کے لیے مشہور پروین توگڑیا کی نریندر مودی سے ناراضگی بہت پرانی ہے۔ اب انھیں یہ بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ نریندر مودی اور آر ایس ایس ان کی طاقت کوختم کرنا چاہتے ہیں، اور یہی سبب ہے کہ مودی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اقتدار کے مدمستوں نےحق اور مذہب کو دبایا ہے۔‘‘ بھوک ہڑتال کے دوران توگڑیا نے خود کو ہندوؤں کا حقیقی خیر خواہ اور نریندر مودی کو مطلب پرست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اس دوران اپنے حامیوں کو ہمیشہ کی طرح اَب بھی قدم سے قدم ملا کر ساتھ چلنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ لوگ دیکھیے گا ہم ہی پارلیمنٹ میں قانون بنا کر رام مندر بنوائیں گے۔ اسی کے ساتھ گئو کشی بند کرنے کے لیے قانون بنوائیں گے اور کشمیر کے ہندوؤں کو کشمیر میں بسائیں گے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول