شاہین باغ مظاہرے کےلئے نوکری چھوڑ دینے والی گورکھپور کی صحافی پراچی پانڈے

پراچی پانڈے نے بتایا کہ جامعہ واقعہ کے بعد شاہین باغ کی خواتین نے جو حوصلہ دکھایا اس سے وہ اتنا متاثر ہوئی کہ سب کچھ چھوڑ کر نہ صرف تحریک کا حصہ بنی بلکہ اسٹیج کی کنوینر بن گئی۔

تصویر بشکریہ نیوز لانڈری
تصویر بشکریہ نیوز لانڈری

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: شاہین باغ میں چل رہا سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہرہ جہاں ملک بھر کے لئے مشعل راہ ثابت ہوا ہے وہیں اس مظاہرے کے مقام پر متعدد ایسی کہانیاں بھی ہیں جو موجودہ ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوں گی۔ ایسی ہی ایک کہانی اتر پردیش کے گورکھپور کی رہنے والی پراچی پانڈے کی بھی ہے۔ پراچی شاہین باغ میں احتجاج شروع ہونے کے چوتھے دن بطور صحافی رپورٹنگ کے لئے پہچیں لیکن اس کے بعد وہ یہیں کی ہوکر رہ گئیں۔ پراچی پانڈے صحافت کی نوکری کو خیرباد کہنے کے بعد اب شاہین باغ میں جاری تحریک میں اسٹیج کی کنوینر ہیں اور رات بھر وہیں قیام کر رہی ہیں۔

پراچی نے یو این آئی کو بتایا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کے بعد جامعہ میں طلبہ کے ساتھ پولیس نے جیسی بربریت دکھائی وہ بہت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کے واقعہ کے بعد شاہین باغ کی خواتین نے جو حوصلہ دکھایا اس سے وہ اتنا متاثر ہوئیں کہ سب کچھ چھوڑ کر نہ صرف تحریک کا حصہ بن گئیں بلکہ اسٹیج کی کنوینر بھی بن گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ یہاں بطور صحافی آئیں تھیں تو لوگوں نے، خصوصاً خواتین نے بے حد پیار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یہاں آکر اچھا لگا۔ پھر میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی اس تحریک کے لئے کچھ کروں اور اب میں یہاں اسٹیج سنبھالتی ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کل پولیس نےمظاہرین کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی گزارش کی تھی لیکن سی اے اے واپس ہونے تک خواتین نے یہیں جمے رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں پراچی نے کہا کہ خواتین نے ایک طرف کی سڑک کو بند کیا تھا لیکن پولیس نے دوسری سڑک کو بھی بند کر دیا۔ پولیس دوسری سڑک کو آمد و رفت کے لئے استعمال کر سکتی ہے، اس سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

پراچی نے کہا کہ مقامی لیڈر کبھی کبھار اس اسٹیج کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن خواتین متحد ہوکر ایسے لیڈروں کو منچ سے دور رکھنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔

واضح رہے کہ شاہین باغ میں سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں ایک مہینے سے خواتین دھرنے پر ہیں۔ رات کا کام ختم کرنے کے بعد خواتین یہاں پہنچ جاتی ہیں۔ کسی کی گود میں بچہ ہوتا ہے تو کوئی ضعیفی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یہاں پہنچی ہے۔ ہڈیاں کپکپا دینے والی اس سردی کے باوجود خواتین ترپال کے نیچے اپنی راتیں گزار رہی ہیں۔

اپنے دو سال کے بچے کو گود میں لئے بیٹھی ریحانہ نے کہا، ’’مودی جی ہم سے ثبوت مانگنے والے ہیں۔ میں بہار کی رہنے والی ہوں۔ وہاں ہمارے پاس گھر بنانے لائق زمین بھی نہیں ہے۔ یہاں مزدوری کر کے کرایہ کے کمرے میں رہتے ہیں۔ ہم کون سا کاغذ دکھائیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے اور میرے بیٹے کو ملک سے کوئی نکال نہ دے اس لئے میں یہاں روزانہ رات کو آتی ہوں۔ صبح گھر کا کام نمٹا کر دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہوں۔ پریشانی تو ہو رہی ہے لیکن یہ بہت ضروری ہے۔‘‘

Published: 15 Jan 2020, 6:30 PM