کولڈ ڈرنک کی طرح پرچون کی دکانوں پر فروخت ہوتی رہی زہریلی شراب، پولس رہی لاپروا

زہریلی شراب سے یوپی-اتراکھنڈ میں اب تک 100 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، تحقیقات کرنے پر معلوم چلا کہ سہارنپور اور میرٹھ کے سینکڑوں گاؤں میں پرچون کی دکانوں پر شراب کے پیکٹ فروخت ہو رہے تھے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

سہارنپور/ہریدوار /میرٹھ: میرٹھ کے دورالا قصبہ میں گزشتہ مہینے ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ یہاں کے گاؤں سکوتی کے ایک انٹر کالج میں آٹھویں کلاس کے پانچ بچے شراب کے نشہ میں اسکول پہنچے۔ اس حیرت انگیز واقعہ کے بعد اسکول انتظامیہ نے شراب کا انتظام کرنے والے ایک طالب علم کو معطل کر دیا جبکہ دیگر چار کے والدین کو بلا کر انتباہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔ کچھ طلبا کا کہنا ہے کہ مذکورہ پانچ طلبا نے کلاس کے اندر ہی شراب نوشی کی تھی۔ یہ پانچوں صبح پریئر کے لئے گراؤنڈ میں نہیں پہنچے اور جب دیگر طلبا لوٹے تو ان کو انہیں شراب نوشی کرتے پایا۔ تحقیقات کرنے پر معلوم چلا کہ روہاسا، دشترھپور اور جمال پور کے اور بھی بچے ایسا دوسری کلاسوں میں کر رہے تھے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
المیہ یہ ہے کہ کچی شراب دیہی علاقہ کی پرچون اور کولڈ ڈرنک کی دکانوں پر آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے۔

سہارنپور اور ہریدوار کے روڑکی میں زہریلی شراب کی وجہ سے 100 سے زائد اموات واقع ہونے کے بعد بے دار ہونے والی حکومت اور پولس کی نظر میرٹھ کے نزدیک پیش آنے والے اس واقعہ پر پڑ جاتی یو شاید اس کچی شراب کے غیر قانونی دھندے کو تباہ کرنے میں کامیاب رہتی۔

سہارنپور، روڑکی (اتراکھنڈ)، مظفرنگر، میرٹھ اور بجنور کے کھادر علاقہ میں کچی شراب کی بھٹیاں قائم کی گئی ہیں اور یہاں جنگلات میں بڑے پیمانے پر شراب کھینچی جاری ہے۔ اس ہولناک واقعہ کے بعد انتظامیہ کی آنکھیں کھلی ہیں۔

کچی شراب کھینچنے کا یہ نیٹورک میرٹھ کے ہستناپور، مظفرنگر کے پور قاضی، روڑکی کے بھگوانپور اور چلکانہ میں موجود ہے اور ان علاقوں میں سینکڑوں بھٹیوں میں آگ بھبک رہی ہے۔ گنگا سے ملحقہ ان علاقوں میں محکمہ آبکاری کے افسران اور پولس اہلکاربھی جانے کی ہمت نہیں کر پاتے، کئی مرتبہ ان پر حملے بھی کئے گئے ہیں۔

بی ایس پی کے دور حکومت میں سال 2009 میں ضرور ایک آپریشن کے دوران ان زہر کے سوداگروں پر ضرور کچھ مہینے کے لئے لگام لگ گئی تھی لیکن اس کے بعد اس دھندے کو پھر سے کھڑا کر لیا گیا۔

دراصل بی ایس پی کے دور میں زہریلی شراب پینے والے ایک درجن لوگ مارے گئے تھے، جس کے بعد میرٹھ کے آئی جی جاوید اختر کی قیادت میں یہاں سینکڑوں بھٹیاں تباہ کر دی گئیں اور اس دھندے پر لگام لگائی گئی، لیکن اب یہ دھندا اور بھی طاقتور ہو چکا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دھندے میں محکمہ آبکاری اور پولس بھی شامل ہے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
کچی شراب کے تازہ سانحہ کی وجہ سے اکیلے سہارنپور میں ہی 83 افراد مارے جا چکے ہیں، مرنے والوں میں اکثریت دلت طبقہ کے لوگوں کی ہے۔

پولس نے 12 فروری کو ارجن نامی ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ سہارنپور انتظامیہ کے مطابق اسی ارجن نے کیمیکل کا استعمال کر کے 6 ڈرم شراب کھینچی تھی۔ اس نے 6 میں سے تین ڈرم شراب بیچ دی تھی اور اسی نے کہرام مچا دیا۔ اگر شراب کے تمام 6 ڈرم فروخت ہو جاتے تو مرنے والوں کی تعاداد دوگنی ہو جاتی۔ پولس کا کہنا ہے کہ شراب بنانے کے لئے جس کیمیکل کا استعمال کیا گیا اسے بہت زیادہ مقدار میں شراب میں ڈال دیا گیا جس کی وجہ سے وہ زہر میں تبدیل ہو گئی۔

سہارنپور کے سابق رکن اسمبلی جگپال سنگھ کے مطابق کچی شراب کا غیر قانونی کاروبار پولس کی شہ پر چلتا ہے اور پولس بھی اس سے کافی منافع کماتی ہے۔ کچی شراب کے تمام دھندا کرنے والے پولس کے رابطہ میں رہتے ہیں۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کچی شراب سے ہوئی ان اموات میں حزب اختلاف کی سازش نظر آتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تہہ تک جائیں گے!

ان کی تصدیق اس بات سے ہو جاتی ہے کہ پولس نے ایک رات میں ہی مہم چلا کر 30 افراد کو گرفتار کر لیا، 271 لیٹر شراب اور 350 لیٹر شراب بنانے میں استعمال ہونے والی لہن شرآمد کر لی۔ اس دوران سینکڑوں بھٹیاں تباہ کر دی تئیں اور درجنوں ملزمان گاؤں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ یہ کارروائی اگر وقت رہتے کی جاتی تو اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔