آلودگی سے ’دیوتا‘ بھی پریشان، وارانسی میں بھگوانوں کو پہنائے گئے ’ماسک‘

مانا جا رہا ہے کہ ہوا میں گھلتے زہریلے عناصر سے انسان ہی نہیں، بھگوان بھی پریشان ہیں۔ کم از کم پی ایم مودی کے انتخابی حلقہ وارانسی میں تو ایسا ہی ہے، کیونکہ وہاں بھگوانوں کو ’ماسک‘ پہنا دیئے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دیوالی کے بعد دہلی سمیت پورے شمالی ہند کے زیادہ تر علاقوں میں فضائی آلودگی اپنے عروج پر ہے۔ اس کی زد میں دھرم نگری وارانسی بھی آ چکی ہے۔ کاشی کے لوگ آلودہ ہوا سے بچنے کے لیے ان دنوں ماسک پہنے نظر آ رہے ہیں۔ وارانسی کے سگرا واقع کاشی ودیاپیٹھ اسکول کے نزدیک واقع بھگوان شیو پاروتی کے مندر میں واقع مورتیوں کو یہاں کے پجاری اور کچھ بھکتوں نے ماسک پہنا دیئے ہیں۔

آلودگی سے ’دیوتا‘ بھی پریشان، وارانسی میں بھگوانوں کو پہنائے گئے ’ماسک‘

پجاری ہریش مشرا نے بتایا کہ ’’وارانسی عقیدت کی نگری ہے۔ ہم عقیدہ رکھنے والے لوگ بھگوان کی انسانی شکل کو محسوس کرتے ہیں۔ گرمی میں بھگوان کی مورتیوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے چندن کا لیپ لگاتے ہیں، سردی میں انھیں کمبل اور سوئٹر بھی پہنائے جاتے ہیں۔ جب ہم انھیں انسانی شکل میں مانتے ہیں تو ان پر بھی آلودگی کا اثر ہو رہا ہوگا۔ اسی لیے یہاں واقع مورتیوں کو ہم نے ماسک پہنا دیئے ہیں۔‘‘

پجاری جی نے بتایا کہ بابا بھولے ناتھ، دیوی درگا، کالی ماتا اور سائیں بابا کی پوجا کرنے کے بعد انھیں ماسک پہنا دیئے گئے ہیں۔ پجاری نے یہ بھی بتایا کہ جب لوگوں نے مورتیوں کو ماسک پہنے ہوئے دیکھا تب وہ بھی آلودگی سے بچنے کے لیے خود ماسک پہننے لگے۔ کئی لوگوں نے ان مورتیوں سے سبق حاصل کیا۔ چھوٹے بچے بھی آلودگی سے بچنے کے لیے بیدار ہو رہے ہیں۔


ہریش مشرا نے بتایا کہ انھوں نے مورتیوں کو کئی گھنٹے تک ماسک پہنائے رکھا۔ جب کالی جی کی مورتی میں ماسک لگایا گیا تو ان کی زبان چھپ گئی تھی۔ ہندو مذہبی کتابوں کے مطابق ان کی زبان چھپنی نہیں چاہیے، اسی لیے بعد میں ان کا ماسک اتار دیا گیا۔ پجاری نے کہا کہ ’’اب آلودگی کچھ کم ہونے لگی ہے۔ اگر آگے آلودگی بڑھی تو مورتیوں کو ماسک لگاتار پہنایا جا سکتا ہے۔‘‘

آلودگی سے ’دیوتا‘ بھی پریشان، وارانسی میں بھگوانوں کو پہنائے گئے ’ماسک‘

پجاری جی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دیوالی میں لوگوں نے پوری ریاست میں اتنے پٹاخے چھوڑے ہیں کہ اس کے دوسرے دن سے یہاں پر اور گنگا کی گھاٹوں پر دھند چھائی رہتی ہے۔ اس سے آنکھوں میں جلن اور سانس بھی پھولنے لگتی ہے۔ لوگوں نے پیڑ پودے بھی کاٹ ڈالے ہیں، اس لیے یہاں کے ماحول میں آکسیجن کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ مشرا نے کہا کہ فضائی آلودگی سے نبرد آزما بنارس کی آب و ہوا ٹھیک کرنے کے لیے لوگوں کو خود آگے آنا پڑے گا۔ لوگ تہوار دھوم دھام سے منائیں، لیکن صحت کا خیال ضرور رکھیں۔

پجاری جی کا کہنا ہے کہ دھند کو لے کر ہنگامہ برپا ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن کے ملازمین سڑکوں پر کوڑا جلانے سے پرہیز نہیں کر رہے۔ نگواں، نریا، سگرا، جیت پورہ سمیت کئی مقامات پر کوڑا جلتا پایا گیا۔ یہ ہوا کو مزید آلودہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے مندروں کے ماحول کو بھی خراب کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں پر آلودگی کی سطح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ دھند سے نمٹنے کے لیے فائر فائٹنگ ٹیم کو تعینات کرنا پڑا۔ شہر میں فائر بریگیڈ ٹیمیں پیڑ پودوں پر پانی کے چھڑکاؤ کے ساتھ ہی ان پر جمی دھول کو جھاڑنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ یہاں ہوا میں پی ایم 2.5 کا انڈیکس 500 کے قریب پہنچ چکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔