انتخابی سروے: بنگال میں ممتا اور کیرالہ میں لیفٹ اتحاد کی واپسی، تمل ناڈو میں یو پی اے کی جیت کے امکانات

سروے کے مطابق مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو 154 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی کو 107 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں، جبکہ تمل ناڈو میں اقتدار میں تبدیلی کے آثار ہیں

وزیر اعلیٰ بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
وزیر اعلیٰ بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چلی ہیں۔ مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں سیاسی جماعتیں مہم چلا رہی ہیں۔ درں اثنا، ’ٹائمز ناؤ‘ اور ’سی ووٹر‘ نے اس حوالہ سے سروے کیا ہے کہ ان ریاستوں میں کس پارٹی کو جیت حاصل ہوگی۔

آج تک پر شائع رپورٹ کے مطابق سروے میں بتایا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو 154 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی کو 107 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ 2016 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 211 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور بی جے پی کو تین نشستیں ہی حاصل ہو چکی تھیں۔ سروے کے مطابق ٹی ایم سی بنگال میں واپسی کرنے جا رہی ہے، تاہم اس کی نشستیں کم ہو رہی ہیں جبکہ بی جے پی پہلے کی نسبت مضبوط ہوگی۔

سروے کے مطابق تمل ناڈو میں اقتدار میں تبدیلی کے آثار ہیں۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے زیر قیادت اتحاد کو صرف 65 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ، ڈی ایم کے کی زیر قیادت یو پی اے اتحاد 158 نشستیں جیت سکتا ہے۔ مجموعی طور پر تمل ناڈو میں یو پی اے کے حکومت بنانے کے اشارے مل رہے ہیں۔

ادھر، کیرالہ میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے واپس آنے کا امکان ہے۔ ایل ڈی ایف کل 140 نشستوں میں سے 82 نشستیں جیت سکتا ہے۔ دوسری طرف یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) 56 نشستیں جیت سکتا ہے جبکہ بی جے پی صرف ایک سیٹ جیت سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، پڈوچیری میں این ڈی اے کے حکومت بنانے کا امکان ہے۔ سروے کے مطابق اسمبلی کی 30 نشستوں میں سے اسے 16 سے 20 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔

سروے کے مطابق بی جے پی آسام میں دوبارہ واپسی کر سکتی ہے۔ یہاں این ڈی اے اتحاد کو 126 میں سے 67 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، یو پی اے اس بار بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے اور وہ 39 سیٹوں سے بڑھ کر 57 سیٹوں تک پہنچ سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر جماعتوں کو محض دو نشستیں حاصل ہوں گی۔ خیال رہے کہ 126 رکنی آسام اسمبلی میں اکثریت کے لئے 64 نشستیں درکار ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔