انتخابی تشہیر میں اپنے ہی فلیگ شپ منصوبوں کا تذکرہ نہیں کر رہے مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے لے کر روزگار اور میک ان انڈیا جیسے منصوبوں کو پورے جوش و خروش سے شروع کیا تھا، لیکن یہ سبھی منصوبے ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تشہیر کا شور آخری مرحلے میں ہونے کے بعد یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ مودی حکومت اپنی ان فلیگ شپ منصوبوں کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں کر رہی جن کی گزشتہ تین سالوں میں سینہ ٹھوک کر اعلان کیا تھا۔ حکومت کی ناکامیوں میں سرفہرست ’میک اِن انڈیا‘، ’اسمارٹ سٹی‘، ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگرام شامل ہیں۔

ڈیجیٹل انڈیا کے معاملے میں مودی حکومت کی ناکامی کا کمزور حصہ یہ ہے کہ شفافیت کی خاطرسرکاری منصوبوں کا فائدہ دیہی علاقوں تک پہنچانے کے لیے گاوؤں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے والے منصوبے دم توڑ رہے ہیں یا کچھوے کی رفتار سے چل رہے ہیں۔ کئی دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل نظام اس لیے دم توڑ گئی کیونکہ بہت بڑی آبادی اب بھی کمپیوٹر سے ناواقف ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز صرف کاغذوں میں ہیں۔

اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے لے کر روزگار اور میک ان انڈیا جیسے منصوبوں کو پورے جوش و خروش سے شروع کیا گیا تھا۔ چین سے سامان منگانے والا ہندوستان آج بھی سب سے بڑا ملک بنا ہوا ہے۔ میک ان انڈیا کے تحت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہندوستان کو کچھ سال بعد چین کے سامنے لا کر کھڑا کیا جائے گا۔ ان کے لیے بڑے سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے سے متعلق وزیر اعظم کے بیرون ملکی دوروں میں باتیں ہوئیں لیکن حکومت کے اندرونی ذرائع اعتراف کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں چار سالوں میں ایسی کوئی بڑی صنعت اور کارخانے وسعت نہیں پائے جس کے دم پر کچھ حصولیابیوں کا دعویٰ کیا جا سکے۔

حکومت کی حمایت میں کھل کر سامنے آنے والے کئی ماہرین اب اس کا دفاع نہیں کرتے۔ ان میں سے کئی لوگوں کا واضح طور پر ماننا ہے کہ چھوٹی بڑی صنعتوں کی توسیع اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا پورا فنڈا ہی اس لیے ناکام ہوا کیوں کہ نوٹ بندی کے فوراً بعد جی ایس ٹی کی مار نے سب سے زیادہ سرمایہ کاروں اور صنعتوں کی توسیع کو بڑی چوٹ پہنچائی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مختلف وزارتوں سے جڑی مذکورہ فلیگ شپ منصوبوں پر سیدھے وزیر اعظم دفتر کی نگاہ رہتی ہے اور پروگریس کی رپورٹ وقت قت پر وزارتوں سے طلب کی جاتی رہی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ ماہ سے سبھی باتیں دھیرے دھیرے ٹھنڈے بستے میں ڈال دی گئی ہیں۔ سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ رخنات اور مسائل اس لیے بھی پیدا ہوئے کیونکہ حکومت کے پاس پروڈکشن اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں قدم آگے بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ ہی دستیاب نہیں تھا۔

بنیادی تکنیک اور انجینئرنگ کے شعبہ میں ہندوستانی نوجوان اور یہاں کا اسکل یعنی ہنر کی تربیت چین کے مقابلے کہیں پیچھے ہے۔ حالانکہ ہندوستانی نوجوانوں کا انگریزی نالج اچھا ہے اور سافٹ ویئر پروفیشنل نے یورپ و امریکی بازار میں تاریخ رقم کی لیکن میک ان انڈیا کے محاذ پر مودی حکومت کے پاس کچھ بھی خاص بتانے کے لیے نہیں ہے۔

جب مودی حکومت کے یہ منصوبے گزشتہ دو سالوں میں ہدف میں پچھڑتی چلی گئیں تو نیا نعرہ اچھالا گیا کہ اب 2022 تک ان اسکیموں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ’پردھان منتری جَن آواز یوجنا‘ کا بھی یہی حال ہے۔ دہلی و این سی آر علاقہ میں رہائش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دو سال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ اگلے چار سال میں 2 کروڑ بے گھر لوگوں کو گھر مہیا کرائے جائیں گے، اور اب 2022 تک وعدہ پورا کرنے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ اس پروجیکٹ پر 2 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ خرچ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اب اس پروجیکٹ کی بھی ہوا نکل گئی ہے۔ اپنے ہی چار سال پرانے دعووں پر حکومت صرف اندھیرے میں تیر چلا رہی ہے۔

حکومت کا ملک میں 100 اسمارٹ سٹی مشن بھی اس کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ناکام ہوا۔ مارچ 2018 میں شہری ترقیات امور کی پارلیمانی کمیٹی نے پایا کہ اسمارٹ شہروں کا اعلان تو ہوا لیکن ان کے لیے بجٹ الاٹ نہیں ہوا۔ نتیجتاً کئی علاقوں میں ذرا سا بھی کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ مودی حکومت کو حال ہی میں ایودھیا میں منعقد ’سَنت سماگم‘ میں گنگا صفائی کے معاملے میں سب سے زیادہ برا بھلا بھی سننے کو ملا تھا کیونکہ گنگا صفائی مہم مودی حکومت کی ناکامیوں کی زندہ مثال بن چکی ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل نے پیر کے روز نریندر مودی حکومت پر نشانہ لگایا اور ٹوئٹ کیا کہ ’’اس پر دھیان دیجیے کہ اب انھوں نے (مودی حکومت) نے اسمارٹ سٹی، اسٹینڈ اَپ انڈیا، اسٹارٹ اَپ انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا کے بارے میں بات کرنی بند کر دی ہے۔ یہ بھلے ہی بات نہیں کر رہے ہوں، لیکن ہندوستان کچھ بھی نہیں بھولا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔