مودی کا نیا کھیل: 2.5 لاکھ کمانے پر ٹیکس، 8 لاکھ پر ریزرویشن...خرم رضا

بی جے پی نے انتخابات جیتنے اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے اس ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں لانے سے پہلے نہ تو کسی پارٹی سے مشورہ کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرنے کے لئے مناسب وقت دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

ملک کی 49.5 فیصد آبادی کو سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویش کی سہولت حاصل ہے اور ملک کی باقی 50.5 فیصد آبادی کو ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے ۔ جب اس 50.5 فیصد آبادی کے بچوں کو زیادہ نمبر حاصل کرنے کے بعد بھی اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں ملتا اور ان کے ساتھ پڑھنے والے ان بچوں کو ان سے اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ مل جاتا ہے جن کو ریزرویشن کی سہولت حاصل ہے تو ان بچوں اور ان کے والدین کو غصہ آنا لازمی ہے لیکن حکومت نے جو اس کا حل سوچا ہے وہ اس آبادی کو راحت پہنچانے کے لئے نہیں ہے بلکہ بر سر اقتدار جماعت بی جے پی کو عام انتخابات میں راحت پہنچانے کے لئے ہے۔

بی جے پی قیادت 5 ریاستوں میں اپنی شکست کی وجہ اعلی ذاتوں میں ریزر ویشن کے خلاف غصہ کو سمجھ رہی ہے اور اسی وجہ سے مودی حکومت نے اقتدار کے اپنے آخری سال کے آخری پارلیمانی اجلاس میں اعلی ذاتوں کو یہ سہولت دینے کے لئے ترمیمی بل پیش کیا ۔ عام انتخابات سر پر ہیں اس لئے کوئی بھی پارٹی اس بڑے ووٹ بینک کو ناراض نہیں کر سکتی کیونکہ ظاہری طور پر تو یہ ملک کی 50.5فیصد آبادی کے لئے ہے ۔ پارلیمنٹ سے یہ بل منظور ہونے کے بعد اس کا کیا حال ہوگا، سپریم کورٹ کا کیا رخ رہے گا، اس پر عمل کیسے ہوگا اور اس سے فائدہ کیا ہوگا یہ شائد حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس وقت صرف یہ دیکھنا ہے کہ عام انتخابات کیسے جیتے جا سکتے ہیں اور اقتدار پر قبضہ کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

ویسے ہمیں بہت اچھی طرح یا د ہے کہ سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ نے بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے منڈل کا کارڈ کھیلا تھا مگر اس سے سماج میں بد امنی تو پیدا ہوئی ہی تھی ساتھ ہی ان کی حکومت بھی نہیں بچ پائی تھی جس کا مطلب صاف ہے کہ یہ پتے کبھی بھی ترپ کے پتے نہیں ہو سکتے ۔ بی جے پی نے 2014 کے انتخابات سے پہلے بہت سارے جملے ایسے پتوں کی شکل میں پھینکے تھے ، کیونکہ وہ اقتدار میں نہیں تھے تو لوگوں نے اس امید سے ان پتوں کو ترپ کا پتہ سمجھ لیا تھا کہ شائد ان کی زندگی میں کوئی انقلابی بدلاؤ آجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساڑھے چار سالوں میں ملک کے عوام کی پریشانیوں اور تکالیف میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

حکومت کے اس قدم کی سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جنرل کیٹگری کے اس طبقہ کو ریزرویشن دینے کے لئے جو شرائط رکھی گئی ہیں اس میں اقتصادی طور پر کمزور افراد کی آمدنی آٹھ لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے یعنی 66 ہزار روپے ماہانہ آمدنی تک کے لوگوں کو ریزرویشن کی یہ سہولت حاصل ہوگی ۔ 66 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والا انکم ٹیکس ادا کرتا ہے مگر حکومت کے نئے قدم کے بعد ٹیکس دینے کے با وجود وہ معاشی طور پر کمزور کے خانے میں آئے گا۔ باقی شرائطوں میں 100 گز کا مکان اور پانچ ایکڑ زمین الگ ہیں جن پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی اس کیٹگری کی 90 فیصد آبادی کو اس کا فائدہ ہوگا۔ ملک کی اس 50.5 فیصد آبادی میں سے صرف دس فیصد آبادی کو ہی اس ریزویشن کی سہولت ملے گی یعنی اس کیٹگری میں باقی 40 فیصد اس سہولت سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کا مطلب سیدھا ہے کہ اس 40 فیصد آبادی کی پریشانیاں کم نہیں ہوں گی بلکہ مزید بڑھ جائیں گی کیونکہ وہ اس سہولت کو حاصل کرنے کے لئے درخواست اور دوسری چیزوں پر پیسہ اور وقت لگائیں گے۔

بی جے پی نے انتخابات جیتنے اور کسی بھی طرح اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے اس ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں لانے سے پہلے نہ تو کسی پارٹی سے مشورہ کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرنے کے لئے مناسب وقت دیا ۔ ساڑھے چار سال خراب کرنے اور 5 ریاستوں میں شکست کے بعد بی جے پی کو اعلی ذاتوں کی یاد آئی ہے لیکن یہ کسی بھی طرح کا مستقل حل نہیں ہے کیونکہ اعلی ذاتوں نے کبھی بھی اپنے لئے ریزرویشن کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ موجود ہ ریزرویشن کو ختم کرنے کے لئے پر زور مطالبہ کیا تھا۔ آج کے دور میں ریزرویشن کسی بھی قوم یا طبقہ کے لئے اچھا نہیں ہے کیونکہ نہ تو اچھے سرکاری تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی زیادہ سرکاری نوکریاں ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں اس طبقہ کو ریزرویشن دینے کی بات کا مطلب ہے کہ کل حکومت کو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو بھی ریزرویشن دینا ہوگا اور یہ نجی تعلیمی ادارے کسی دکان سے کم نہیں ہیں، ان کو داخلہ دینے سے کوئی انکار نہیں ہے کیونکہ داخلہ کا مطلب کمائی۔ ایسے حساس معاملوں پر بڑے پیمانہ پر تبادلہ خیال ہونا چاہیے تھا لیکن بی جے پی کی موجودہ قیادت بات چیت اور تبادلہ خیال میں یقین نہیں رکھتی کیونکہ وہ انتخابی جیت کے علاوہ کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتی ہے اور نہ ہی کچھ سوچنا چاہتی ہے۔