مرکز اور مغربی بنگال پھر آمنےسامنے، چیف سیکریٹری کو واپس بلایا

کورونا وبا اور طوفان سےہو رہی تباہی کے دور میں بھی عوام کی خدمت کے بجائےمرکز اور مغربی بنگال آمنے سامنےہیں۔

وزیر اعلی ممتا بینرجی طوفاننی علاقہ کا دورہ کرتےہوئے، فائل تصویر آئی اے این یس
وزیر اعلی ممتا بینرجی طوفاننی علاقہ کا دورہ کرتےہوئے، فائل تصویر آئی اے این یس
user

قومی آوازبیورو

اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے باوجود مغربی بنگال اور مرکز کے بیچ سیاست کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور یہ اب اپنے شباب پرہے۔ یاس طوفان کی جائزہ میٹنگ میں ممتا بینرجی کا باقائدہ شریک نہ ہونا اور وزیر اعظم کے ذریعہ بی جے پی کے اور مغربی بنگال میں حزب اختلاف کےرہنما شوبیندو ادھیکاری کو اس جائزہ میٹنگ میں بلایا جانا اس جانب اشارہ کرتا ہےکہ چناؤ کے بعد بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس میں اختلافات اپنے شباب پر ہیں ۔ بی جےپی نے اس کو لےکر ممتا بینرجی پر حملہ بولاہے۔

اس بڑھتی تکرار کے بیچ اب مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کےچیف سیکریٹری الپن بندھو پادھیائے کو واپس بلایا ہے۔ نیوز 18 کی خبر کےمطابق مرکز نے کہا ہے کہ ممتا حکومت ان کو جلد چھوڑ دے اور 31 مئی تک بندھو پادھیائے کو مرکزی حکومت میں رپورٹ کرنےکےلئےکہا ہے۔ بندھو پادھائے کی مدت گزشتہ دنوں ختم ہو گئی تھی لیکن ممتا حکومت نے ان کی مدت کار میں اضافہ کر دیا تھا ۔


مرکز کے ذریعہ جاری خط میں چیف سیکریٹری کو فورا ریلیو کرنے کے لئےکہا گیا ہے ۔کورونا اور یاس طوفان کے بیچ میں اس طرح کی سیاست سے ریاست کے عوام کےلئے مسئلے کھڑے ہوں گے۔ مبصرین کی رائے میں وبا کے ایسے ماحول میں ایسی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے۔

ادھر یاس طوفان کےتعلق سے ہونےوالی جائزہ میٹنگ میں ممتا کے شرکت نہ کرنے پر بی جے پی نے ان کی تنقید کی ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے وہ مغربی بنگال میں کل ہوئےواقعہ سے پوری طرح حیران ہیں کیونکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کا عہدہ کوئی ذاتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ادارہ ہے اور دونوں نےعوام کی خدمت کرنے کےلئے حلف لیا ہوا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کےساتھ اس طرح کا رویہ تکلیف دہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔