بنگال میں سیاسی ہلچل: اویسی کی جماعت کا ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان
مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے بیچ اویسی کی جماعت نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کر دیا۔ یہ فیصلہ متنازع ویڈیو اور مسلم ووٹروں سے متعلق بیانات کے بعد لیا گیا

مغربی بنگال میں انتخابی سرگرمیوں کے درمیان سیاسی اتحادوں میں تبدیلی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اسد الدین اویسی کی قیادت والی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک متنازع ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہمایوں کبیر، جنہیں پہلے ترنمول کانگریس سے نکالا جا چکا تھا، نے اپنی الگ جماعت قائم کی تھی اور اویسی کی پارٹی کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب دونوں جماعتوں کے راستے الگ ہو گئے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ وہ مغربی بنگال کے انتخابات اکیلے لڑے گی اور کسی بھی پارٹی کے ساتھ مزید اتحاد نہیں کرے گی۔
پارٹی نے واضح کیا کہ وہ ایسے بیانات سے خود کو الگ رکھتی ہے جن میں مسلمانوں کی دیانتداری اور وفاداری پر سوال اٹھائے جائیں۔ اسی بنیاد پر ہمایوں کبیر کی جماعت سے اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مغربی بنگال کے مسلمان ملک کے سب سے زیادہ محروم اور پسماندہ طبقات میں شامل ہیں، اور دہائیوں کی سیاست کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔
یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک ویڈیو سامنے آئی، جسے ترنمول کانگریس نے جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ہمایوں کبیر کو مبینہ طور پر ایک ہزار کروڑ روپے کی ڈیل اور مسلم ووٹروں کو متاثر کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ پارٹی کے رہنما فرہاد حکیم نے پریس کانفرنس میں اس ویڈیو کو پیش کیا اور سنگین الزامات عائد کیے۔
دوسری جانب ہمایوں کبیر نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی بھی بی جے پی رہنما سے 2019 کے بعد کوئی رابطہ نہیں رہا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف سیاسی سازش کی جا رہی ہے اور انہوں نے قانونی کارروائی کرنے کی بھی بات کہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔