بنگال انتخابات: ممتا کے خلاف بی جے پی کی چارج شیٹ، ٹی ایم سی کا امت شاہ پر جوابی حملہ

مغربی بنگال میں انتخابات سے قبل بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان الزامات کی جنگ تیز ہو گئی۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر بدعنوانی، دراندازی اور قانون و نظم کی ناکامی کے سنگین الزامات عائد کیے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

کنال چٹرجی

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور اقتدار میں موجود ترنمول کانگریس اور مرکزی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ہفتہ، 28 مارچ 2026 کو دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف چارج شیٹ جاری کر کے سیاسی محاذ آرائی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ خاص طور پر مرشد آباد میں رام نومی جلوس کے دوران پیش آئے تشدد کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ پہلے مرحلے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اپریل قریب آ رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کی دوپہر مغربی بنگال کی حکومت کے خلاف ایک تفصیلی چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے ریاست کو 2011 سے ’بدعنوانی کی تجربہ گاہ‘ اور صنعتوں کا قبرستان قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے باہر کر کے خوف کی سیاست کو ختم کریں اور اعتماد کی بنیاد پر نئی حکومت قائم کریں۔

امت شاہ نے ریاست میں مبینہ دراندازی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کا مقصد غیر قانونی دراندازوں کی نشاندہی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر غیر قانونی درانداز کو شناخت کر کے ہندوستانی سرزمین سے نکالا جائے گا اور یہ کہ ترنمول کانگریس کی جگہ بی جے پی کو لانا ہی ریاست کی آبادی میں مبینہ غیر فطری تبدیلیوں کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔


انہوں نے مختلف ریاستوں میں این ڈی اے کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر، آسام، منی پور، ہریانہ، اروناچل پردیش، تریپورہ اور اڈیشہ کے بعد اب 2026 میں مغربی بنگال میں بھی بی جے پی حکومت بنانے کے لیے پُرامید ہے۔

دوسری جانب ترنمول کانگریس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ’موٹا بھائی، جواب چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف اپنی چارج شیٹ جاری کر دی۔ پارٹی نے بی جے پی کے اس دعوے کو کہ ریاست دراندازوں سے بھری ہوئی ہے، بنگال اور بنگالیوں کی توہین قرار دیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ دراصل بی جے پی خود غیر قانونی دراندازی کی سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی ہے اور وہ بنگالیوں اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان فرق کو دھندلا کر آسام جیسے حراستی کیمپ ماڈل کو مغربی بنگال میں نافذ کرنا چاہتی ہے۔

ترنمول کانگریس نے مرکزی حکومت کے پارلیمانی جواب کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2010 کے 1.21 لاکھ سے بڑھ کر جولائی 2025 تک 2.50 لاکھ ہو گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق 2020 سے 31 جولائی 2025 کے درمیان 49,040 نئی کمپنیاں قائم ہوئیں جبکہ صرف 1,742 کمپنیوں نے اپنا رجسٹرڈ دفتر ریاست سے باہر منتقل کیا۔ اس طرح بی جے پی کے صنعتی زوال کے دعوے کو مسترد کیا گیا۔

ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے امت شاہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے صرف ریاستی حکومت نہیں بلکہ بنگال کے عوام کے خلاف چارج شیٹ جاری کی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی نے بنگالیوں کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا قرار دے کر انہیں بدنام کیا اور بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں انہیں ہراساں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگالیوں کو مرحلہ وار مجرم بنایا جا رہا ہے—پہلے ان کی توہین، پھر ان سے محرومی، پھر انہیں مجرم قرار دینا اور آخر میں ان کے خلاف کارروائی۔


مہوا موئترا نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ ادارہ امت شاہ کے زیر اثر کام کرتا ہے اور اسے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 کے بعد سے تقریباً 6000 ای ڈی کیسز درج ہوئے جن میں سے 98 فیصد اپوزیشن کے خلاف تھے جبکہ صرف 25 میں سزا ہوئی، جو کہ انتہائی کم شرح ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سویندو ادھیکاری کے خلاف زیر التوا مقدمات اور سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ بریج بھوشن شرن سنگھ کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔

ریاستی وزیر براتیا باسو نے بی جے پی کو قانون و نظم پر تنقید کرنے کا اخلاقی حق نہ ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ خود مرکز کی رپورٹوں کے مطابق اتر پردیش، مہاراشٹر اور راجستھان خواتین کے لیے غیر محفوظ ترین ریاستوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ مغربی بنگال کے واجبات روک رہی ہے اور دراندازی جیسے مسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

براتیا باسو نے منی پور، اناؤ اور ہاتھرس جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنی حکومت والی ریاستوں کے مسائل پر خاموش رہتی ہے جبکہ بنگال پر تنقید کرتی ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے معاملات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لال قلعہ اور پارلیمنٹ کے قریب دھماکوں کے خدشات اور پہلگام میں سیاحوں کی حفاظت جیسے مسائل پر کون جوابدہ ہے۔

ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی عوام کے سامنے ہے اور اس کا فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے، جو 4 مئی کو انتخابی نتائج کے ذریعے سامنے آئے گا۔


سیاسی تجزیہ کار سجیت چٹرجی کے مطابق ترنمول کانگریس کی جوابی چارج شیٹ محض ردعمل نہیں بلکہ اخلاقی برتری حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے بنگالی شناخت، مرکزی ایجنسیوں کے استعمال، خواتین کی سلامتی اور ریاستی واجبات جیسے مسائل کو اٹھا کر بحث کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔

ادھر بی جے پی نے مرشد آباد میں رام نومی جلوس کے دوران پیش آئے تشدد کو مسلم فرقہ واریت اور قانون و نظم کی ناکامی قرار دیا۔ تاہم ترنمول کانگریس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے، جس نے انتظامیہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے تجربہ کار افسران کی جگہ باہر کے لوگوں کو تعینات کیا۔ پارٹی کے مطابق اس واقعے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامیوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں، جس سے بی جے پی کے الزامات کمزور پڑتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔