اتراکھنڈ میں پھر پیدا ہوا ’سیاسی بحران‘، وزیر اعلیٰ تیرتھ راوت نے کی استعفیٰ کی پیشکش

تیرتھ راوت کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 164 اے کے تحت وزیر اعلیٰ بننے کے 6 مہینے میں اسمبلی رکن بننا ضروری ہے، لیکن آرٹیکل 151 کے مطابق اگر الیکشن میں ایک سال سے کم وقت ہو تو ضمنی انتخاب نہیں کرائے جا سکتے۔

تیرتھ سنگھ راوت، تصویر یو این آئی
تیرتھ سنگھ راوت، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں ایک بار پھر سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت نے بی جے پی صدر جے پی نڈّا سے جمعہ کو ملاقات کر ایک خط سونپا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ عہدہ سے استعفیٰ دینا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق استعفیٰ کی پیشکش کے پیچھے کی وجہ آئینی بحران پیدا ہونا بتایا جا رہا ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ تیرتھ سنگھ راوت نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 164 اے کے تحت وزیر اعلیٰ بننے کے 6 مہینے میں اسمبلی رکن بننا ضروری ہے، لیکن آرٹیکل 151 کے مطابق اگر الیکشن میں ایک سال سے کم وقت ہو تو ضمنی انتخاب نہیں کرائے جا سکتے۔ ایسے میں اتراکھنڈ میں آئینی بحران کھڑا ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینا چاہتا ہوں۔


واضح رہے کہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت حال ہی میں دہلی آئے تھے جہاں انھوں نے بی جے پی صدر جے پی نڈّا اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقت کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی کہا جا رہا تھا کہ اتراکھنڈ حکومت میں کوئی اہم تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جمعہ کو تیرتھ سنگھ راوت کو پھر دہلی طلب کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں ستپال مہاراج اور دھن سنگھ راوت کو بھی دہلی بلایا گیا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ میں اگلے سال اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں اور اس کو لے کر سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 Jul 2021, 9:11 PM