کرناٹک میں سیاسی بحران جاری، مظاہرہ کے دوران غلام نبی آزاد سمیت کئی کانگریسی رہنما حراست میں

کرناٹک میں سیاسی بحران کے درمیان گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرہ کر رہے غلام نبی آزاد سمیت کانگریس کے کئی لیڈران کو حراست میں لے لیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

بنگلورو: کرناٹک میں بحران کے لئے برسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان جاری اٹھا پٹک کے درمیان برسراقتدار کانگریس اور جنتا دل (ایس) نے گورنر وجوبھائی والا کے مبینہ ’تفرقہ پیدا کرنے والے رویہ‘ کی مخالفت میں بدھ کو مظاہرہ کر کے ان کے تئیں اپنے غصہ کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ دونوں پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کے استعفی کی وجہ سے اتحادی حکومت پچھلے ایک ہفتے سے سنگین بحران سے دو چار ہے۔

برسراقتدار اتحاد کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کے دفتر کے غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور ریاستی بی جے پی کے صدر بی ایس یدی یورپا کی قیادت میں پارٹی کے رکن اسمبلی نے دھرنا دیا۔ ایک سو سے زیادہ ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسلر کے اس دھرنے میں سابق نائب وزیراعلی آر اشوک اور کے ایشوپپا بھی شامل تھے۔ دھرنے پر بیٹھے رکن اسمبلی وزیراعلی ایچ ڈی کماراسوامی اور کانگریس کے ان لیڈروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے جو باغی رکن اسمبلی کو منانے اور انہیں اپنے فیصلے پر پھر سے غور کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

مظاہرہ کے دوران گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرہ کر رہے غلام نبی آزاد سمیت کانگریس کے کئی لیڈران کو حراست میں لئے جانے کی اطلاع ہے۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت پر اسمبلی اسپیکر کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسمبلی میں واقع مہتاما گاندھی کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیا۔

قبل ازیں یدی یورپا نے کہا کہ پارٹی کا ایک وفد گورنر سے ملاقات کرکے انہیں ایک میمورنڈم سونپے گا اور باغی ارکان اسمبلی کے تئیں کانگریس لیڈر کو سخت رخ اختیار کرنے کی شکایت کرے گا۔ کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں کو استعفی دے کر انہیں باغی بنانے میں بی جے پی کا کسی قسم کا ہاتھ ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے یدی یورپا نے کہا، ’’اگرایسی صورت حال پیدا ہوگی تو وہ حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔‘‘

اس دوران ریاستی کانگریس کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے الزام لگایا کہ بی جےپی لیڈردونوں برسراقتدار پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کو بھگانے اور انہیں ہوٹل میں قید کرنے میں شامل ہیں۔ راؤ نے دعوی کیا کہ برسر اقتدار جے ڈی ایس-کانگریس حکومت کے پاس مکمل اکثریت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جمعہ کو اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے اور اگر اس میں بی جے پی تحریک عدم اعتماد لانے میں ناکام رہتی ہے تو ہم اعتماد تحریک پیش کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بی جے پی پورے ملک میں ایک پارٹی کی حکومت چلانا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی کا ’تاناشاہی‘ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور پورے ملک پر صرف اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بھگوا پارٹی کرناٹک میں برسراقتدار اتحاد سمیت ملک میں سبھی غیر بی جے پی حکومتوں کو گرانے کی کوشش میں ہے۔