شکاریوں کے ہاتھوں پولیس والوں کا قتل: ملزمین کی تلاش جاری، اب تک 2 ہلاک، دو حراست میں

مدھیہ پردیش کے گنا ضلع کے آرون علاقے میں پولیس فورس پر حملہ کرنےکے جرم کے بعد سے پولیس کے سینئر افسر ضلع میں پولیس فورس کے ساتھ موجود رہ کر ملزمین کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

یو این آئی

گنا: مدھیہ پردیش کے گنا ضلع کے آرون علاقے میں پولیس فورس پر حملہ کرنےکے جرم کے بعد سے پولیس کے سینئر افسر ضلع میں پولیس فورس کے ساتھ موجود رہ کر ملزمین کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اور اب تک 2 ملزمین کی مڈبھیڑ میں موت ہو چکی ہے جبکہ دو ملزمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمین کو تلاش کرنے کےلئے ضلع کے ممکنہ علاقوں میں پولیس فورس مسلسل رات بھ سرچنگ مہم چلاتی رہی۔ اس دوران رات میں راگھوگڑکے پاس برودیا گاؤں میں ایک مڈبھیڑ ہوئی،جس میں ایک بدمعاش ماراگیا اور ایک کانسٹیبل دھیریندر کو بھی گولی لگی ہے،جسے علاج کےلئے راگھوگھ کے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔


گوالیار کے نئے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈی سرینواس ورما بھی کل سے گنا ضلع میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ رات دیر گئے انہوں نے موقع پر موجود میڈیا کو بتایا کہ دو ملزمان سونو عرف اشفاق خان اور جیا خان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انکاؤنٹر کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ جائے وقوعہ سے دو ہرن اور چار ہرن کے سینگ بھی ملے ہیں۔ یہ مواد محکمہ جنگلات کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ملزمان پولیس کی انسااس رائفل بھی لوٹ کر فرار ہوگئے۔ اس کی بھی تلاش جاری ہے۔

دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ آرون ، بجرنگڑھ، راگھو گڑھ علاقوں میں ملزمان کی تلاش کے لیے رات بھر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا گیا، جو صبح تک جاری رہا۔ اب تک مقابلے میں ملزمان نوشاد اور شہزاد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انکاؤنٹر میں مزید دو ملزمان کی ہلاکت کی اطلاعات سوشل میڈیا پر ہیں تاہم پولیس انتظامیہ نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔

بتایا گیا ہے کہ اب تک ایک روز قبل پولیس پر حملے کے واقعے میں سات آٹھ ملزمان کے ملوث ہونے کی اطلاعات منظرعام پر آچکی ہیں اور ان تمام کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔


دراصل آرون علاقہ کے جنگل میں شکاریوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولس فورس جیپ سے گئی تھی۔ اس کا مقابلہ موٹر سائیکل پر سوار شکاریوں سے ہوا۔ اس دوران فائرنگ سے تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس گاڑی کا ڈرائیور جو کہ شدید زخمی ہے، کا یہاں کے ضلع اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے فوری طور پر پورے واقعہ کے بارے میں دریافت کیا اور ملزمان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی، مسٹر چوہان نے گوالیار کے انسپکٹر جنرل آف پولیس انیل شرما کو فوری طور پر ہٹا دیا اور انہیں فوری طور پر موقع پر بھیج دیا، اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کی کمان مسٹر ڈی سرینواس ورما کو سونپ دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔