اے ایم یو میں بلا اجلازت داخل ہوئی تھی پولیس، ایف آئی آر درج کرانے کی تیاری

اے ایم یو کے وی سی طارق منصور نے کہا ’’ہم نے پولیس سے بھیڑ منتشر کرنے اور راستہ کھولنے کی گزارش کی تھی، تاہم ہم نے پولیس کو کبھی بھی ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) انتظامیہ کی جانب سے 15 دسمبر کی رات ہاسٹل میں داخل ہونے کے الزام میں پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اے ایم یو میں پرتشدد تصادم کے ایک ماہ بعد لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی حکام نے بدھ کے روز کہا، ’’ایف آئی آر درج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کا خیال ہے کہ جب 15 دسمبر کو پولیس کیمپس میں واقع ایک ہاسٹل میں داخل ہوئی اور اس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔‘‘

اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا، ’’ہم نے پولیس سے بھیڑ منتشر کرنے اور راستہ کھولنے کی گزارش کی تھی، تاہم ہم نے پولیس کو کبھی بھی ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔‘‘ یونیورسٹی کے ان طلباء نے جو 15 دسمبر کی رات زخمی ہوئے تھے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک بیان میں الزام لگایا کہ پولیس زبردستی ہاسٹل اور وی آئی پی گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوئی اور طلباء کے ساتھ زبردستی کی۔

اے ایم یو کے ترجمان راحت ابرار نے اس معاملہ پر کہا، ’’پولیس نے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی ہے، حالانکہ ہم نے اپنی شکایت دے دی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اس معاملے میں کوئی پیشگی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہماری شکایت درج نہیں کی گئی ہے تو ہم دوسرے قانونی پہلوؤں پر غور کریں گے۔‘‘

دریں اثنا، یونیورسٹی 13 جنوری کو دوبارہ کھولی گئی لیکن طلباء نے کلاسز کا مکمل طور پر بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ طلباء تمام امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔