دہلی دنگوں میں دو چارج شیٹ داخل ، طاہر حسین اور پنجرا توڑ کےارکان کے نام

شہری ترمیمی قانون کی حامیوں اور اس کے مخالف کرنے والوں کے درمیان شمال مشرق دلی میں 23 سے 26 فروری کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

شہری ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف اور حمایت کے درمیان جھڑپ کے بعد شمال مشرقی دلی میں بھڑکے پرتشدد معاملے میں پولیس نے منگل کے روز دو چارج شیٹ داخل کیں۔

پولیس کے مطابق کرائم برانچ نے کڑکڑڈوما کورٹ میں چارج شیٹ داخل کیں۔ دونوں چارج شیٹ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد کا نام ہے۔ دلی تشدد معاملے میں تین خصوصی جانچ ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔

پولیس نے بتایا کہ پہلی چارج شیٹ عام آدمی پارٹی کے معطل کونسلر طاہر حسین کے خلاف ہے۔ اس میں کافی زیادہ جائیداد کو نقصان پہنچانے اور آرمس ایکٹ کے تحت معاملہ ہے۔ اس معاملے میں طاہر سمیت 15 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ شمال مشرقی دلی میں تشدد کے پیچھے گہری سازش کار فرما تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طاہر نے دلی تشدد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس معاملے میں طاہر کے چھوٹے بھائی شاہ عالم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری چارج شیٹ پنجرہ توڑ کی رکن نتاشہ نروال اور دیوانگنا کلیتا کے خلاف جعفر آباد معاملے میں دائر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے نزدیک ہجوم کو یکجا کرکے سڑک میں رخنہ ڈالنے میں پنجرہ توڑ کی ان دونوں رکن کا اہم کردار تھا۔ یہ دونوں تشدد کی سازش میں شامل پائی گئی اور ان کا تعلق ’انڈیا اگیسٹ ہیٹ‘ نامی گروپ اور عمر خالد سے تھا۔

واضح رہے کہ شہری ترمیمی قانون کی حامیوں اور اس کے مخالف کرنے والوں کے درمیان شمال مشرق دلی میں 23 سے 26 فروری کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور 200 لوگ زخمی ہوئے تھے۔