کرناٹک پولیس بھرتی گھوٹالہ: اے ڈی جی پی کا تبادلہ، بی جے پی لیڈر کو اب بھی تلاش کر رہی سی آئی ڈی

کرناٹک میں پی ایس آئی (پولیس سب انسپکٹر) بھرتی گھوٹالہ میں ریاستی حکومت نے اے ڈی جی پی امرت پال کا بدھ کے روز تبادلہ کر دیا ہے۔

کرناٹک پولیس لوگو
کرناٹک پولیس لوگو
user

قومی آوازبیورو

کرناٹک میں پی ایس آئی (پولیس سب انسپکٹر) بھرتی گھوٹالہ میں ریاستی حکومت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) امرت پال کا بدھ کے روز تبادلہ کر دیا۔ بی جے پی حکومت کے ذریعہ تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سی آئی ڈی کے افسران نے پی ایس آئی کی بھرتی کے عمل میں ہوئی بڑے پیمانے پر بدعنوانی کو ظاہر کرنے والے گھوٹالے کی جانچ تیز کر دی ہے۔ بی جے پی حکومت کے اس قدم کے بعد کئی طرح کے سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

حکومت نے ایک دیگر سینئر آئی پی ایس افسر آر ہتیندر کو اے ڈی جی پی، بھرتی کی شکل میں تعینات کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی آئی ڈی کے افسران امتحان مراکز کے سپرنٹنڈنٹس اور آبزروس اور اے سی پی رینک کے افسران سے پوچھ تاچھ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جنھیں امتحان کے دوران سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سی آئی ڈی افسران نے اے ڈی جی پی بھرتی دفتر کا جائزہ لیا تھا۔


اس درمیان سی آئی ڈی کے افسران اب بھی کلبرگی ضلع سے بی جے پی لیڈر دویا ہاگراگی کی تلاش کر رہے ہیں، جنھیں گھوٹالے کا سرغنہ کہا جا رہا ہے۔ ایک مقامی عدالت نے ہاگراگی سمیت 6 لوگوں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ عدالت نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ملزم ایک ہفتہ کے اندر جانچ افسران کے سامنے خودسپردگی نہیں کرتے ہیں، تو ان کی ملکیتیں ضبط کر لی جائیں گی۔ پولیس محکمہ کے ذرائع نے بتایا کہ ایسا حکم نادر مواقع پر پاس کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے حکم الگ ہوئے ڈان داؤد ابراہیم اور اس کے معاونین کے خلاف پاس کیے گئے تھے۔

ملزم ہاگراگی کی وزیر داخلہ اراگا گیانیندر کے ساتھ تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آنے سے برسراقتدار بی جے پی کو جھٹکا لگا ہے۔ پی ایس آئی کے 545 عہدوں کے لیے امتحان گزشتہ سال اکتوبر میں منعقد کیا گیا تھا۔ امتحان کے لیے 54041 امیدوار حاضر ہوئے۔ نتیجے اسی جنوری میں اعلان کیے گئے تھے۔ بعد میں الزام سامنے آیا کہ ڈسکریٹو رائٹنگ میں بہت خراب کارکردگی کرنے والے امیدواروں نے پیپر 2 میں زیادہ نمبرات حاصل کیے۔ حالانکہ پولیس محکمہ اور وزیر داخلہ نے امتحان میں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی سے انکار کیا۔


امیدواروں میں سے ایک نے ایک امیدوار کی او ایم آر شیٹ پر جانکاری مانگنے کے لیے ایک آر ٹی آئی درخواست داخل کی۔ حالانکہ درخواست خارج کر دی گئی تھی، امیدوار کی او ایم آر شیٹ عوامی ڈومین میں دکھائی دی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدوار ویریش نے پیپر 2 میں صرف 21 سوال کیے تھے، لیکن اسے 100 نمبرات ملے تھے۔ انھیں ساتواں رینک دیا گیا تھا۔ کانگریس رکن اسمبلی پریانک کھڑگے نے الزام عائد کیا تھا کہ 545 امیدواروں میں سے 300 سے زائد نے پی ایس آئی بننے کے لیے افسران اور وزراء کو 70 سے 80 لاکھ روپے کی رشوت دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔