جامعہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری سے پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے: دانش 

دانش علی نے کہا کہ جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرنے والے بے گناہ طلباء کو تشدد بھڑکانے اور نفرت کا ماحول بنانے کا اصل مجرم مان کر انہیں گرفتار اور ہراساں کرنے سے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے

جامعہ کے گیٹ سے داخل ہوتے پولیس اہلکار / فائل تصویر
جامعہ کے گیٹ سے داخل ہوتے پولیس اہلکار / فائل تصویر
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھاکے ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کہا ہے کہ شہریت(ترمیمی) قانون کے خلاف پرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری اور انہیں ہراساں کرکے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔

دانش دعلی نے جمعہ کو ٹوئیٹ کرکے کہا کہ جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرنے والے بے گناہ طالب علموں کو ہی دہلی میں تشدد بھڑکانے اور نفرت کا ماحول بنانے کا اصل مجرم مان کر انہیں گرفتار اور ہراساں کرنے سے دہلی پولیس تیزی سے اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف جامعہ میں احتجاج کی قیادت کر نے والے بہت سے طالب علموں کو لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور ان سب پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان طلباء پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون (یواے پو اے) کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

دہلی تشددمعاملے میں جامعہ کے ریسر اسکالر میران حیدر، صفورہ زرگر، آصف اقبال تنہا اور الو،منی ایسوسی ایشن آف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شفاء الرحمان خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان طلباء پر بغاوت، قتل، قتل کی کوشش، مذہب کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے اور فسادات کے جرائم کے لئے بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں 23 سے 26 فروری کے درمیان تشدد ہوا تھا، جس 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

    Published: 22 May 2020, 7:11 PM